Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 873

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ألا إني نهيت أن أقرأ القرآن راكعا أو ساجدا فأما الركوع فعظموا فيه الرب وأما السجود فاجتهدوا في الدعاء فقمن أن يستجاب لكم» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نےکہ مجھے رکوع اور سجدے میں تلاوت قرآن سےمنع کیا گیا ہے ۱؎رکوع میں تو رب کی تعظیم کرو ۲؎اور سجدے میں دعا میں کوشش کرو کہ وہ دعائیں قبولیت کے لائق ہیں۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ممانعت تنزیہی کیونکہ ان دونوں حالتوں میں انسان کے انتہائی عجز کا اظہارہے،لہذا اس وقت عظیم الشان کتاب کا پڑھنا مناسب نہیں۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ رکوع،سجدہ میں قرآن پڑھنے سے نمازٹوٹ جاتی ہے،بعض کےنزدیک واجب الاعادہ ہوتی ہے،یونہی قعدہ میں قرآن پڑھ لینے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔
۲
؎یعنی کہو"سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ"تاکہ عملًااپنے عجز کا اظہار ہو اورقولًارب کی عظمت کا اقرار۔
۳
؎یعنی نفل نماز کے سجدوں میں صراحتًا دعائیں مانگو اور دیگرنمازوں کے سجدوں میں رب کی تسبیح و تحمیدکرو کہ یہ بھی ضمنی دعا ہے،کریم کی تعریف بھی دعا ہوتی ہے۔بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ وہ سجدے میں گرکر دعائیں مانگتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ سجدے میں بندےکو رب سے انتہائی قرب ہوتا ہے،اس حالت کی دعااِنْ شَاءَاللّٰهُضرور قبول ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 873