Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 874

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ فَقُولُوا: اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهٗ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهٗ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا قال الإمام: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب امام"سمع الله لمن حمدہ"کہے تو تم"اللّٰھم ربنا لك الحمد"کہوکیونکہ جس کا کلام فرشتوں کے کلام کے موافق ہوگا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت میں امام صرف"سمع الله لمن حمدہ"کہے گا اورمقتدی صرف "ربنا لك الحمد"دونوں کلمات کوئی نہ کہے گا۔دوسرے یہ کہ ہماری حفاظت کرنے والے اور اعمال لکھنے والے فرشتے ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں۔تیسرے یہ کہ مقتدی کو"ربنا لك الحمد" آہستہ کہنی چاہیےتاکہ فرشتوں کی موافقت ہو،یہی مضمون مقتدی کیآمینکے بارے میں بھی گزر گیا وہاں بھی اس قسم کے مسائل کا استنباط کیا گیا۔چوتھے یہ کہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہے،ان کےطفیل برے بخشے جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 874