Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 880

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَقَالَ فِي رُكُوعِهٖ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهٗ وَذٰلِكَ أَدْنَاهُ وَإِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِي سُجُودِهٖ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَ عَلیٰ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهٗ وَذٰلِكَ أَدْنَاهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ و ابْن مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ عونًا لم يَلْقَ ابْنَ مَسْعُودٍ

وعن عون بن عبد الله عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :إذا ركع أحدكم فقال في ركوعه: سبحان ربي العظيم ثلاث مرات فقد تم ركوعه وذلك أدناه وإذا سجد فقال في سجوده سبحان ربي الأ علی ثلاث مرات فقد تم سجوده وذلك أدناه. رواه الترمذي وأبو داود و ابن ماجه. وقال الترمذي: ليس إسناده بمتصل لأن عونا لم يلق ابن مسعود

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت عون ابن عبد الله سے ۱؎وہ حضرت ابن مسعود سے راوی فرماتےہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے رکوع میںسبحان ربی العظیمتین بارکہہ لے تو اس کا رکوع پورا ہو گیا ہے ۲؎اور یہ ادنیٰ درجہ ہے اور جب سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میںسبحان ربی الاعلیتین بار کہہ لے تو اس کا سجدہ پورا ہوگیا ہے اور یہ ادنی درجہ ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،) ترمذی کہتے ہیں کہ اس کی اسناد متصل نہیں کیونکہ عون نے ابن مسعود سے ملاقات نہیں کی ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عون ابن عبد الله ابن عتبہ ابن مسعود ہے،سیدنا ابن مسعود کے بھتیجے کے بیٹے ہیں،تابعی ہیں،حزلی ہیں،بڑے فقیہ اور زاہد تھے،کوفہ میں قیام رہا،امام ابوحنیفہ رحمۃ الله علیہ کی آپ سے ملاقات ہے،کبھی انہیں عون ابن عتبہ بھی کہہ دیاجاتا ہے دادا کی نسبت سے۔عربی میں آدمی کی نسبت باپ،چچا،دادا،پر دادا کی طرف بھی کردیتے ہیں۔
۲
؎یعنی مکمل ہوگیا۔خیال رہے کہ رکوع کے لیے جھکنا نماز میں فرض ہے اور وہاں کچھ ٹھہرنا یعنی اطمینان سے رکوع کرنا واجب اور اس میں تسبیح پڑھنا سنت ہے،لہذا مکمل رکوع وہ ہے جس میں فرض،واجب،سنت سب ادا ہوں۔
۳
؎یعنی کمال کا ادنی درجہ ہے۔معلوم ہوا کہ رکوع سجدے کی تسبیحیں تین سےکم نہ کہے،زیادہ میں اختیارہے پانچ بار یا سات بارکہہ سکتاہے۔نوافل خصوصًاتہجدمیں توجتنا رکوع سجدہ درازکرے اتنا بہتر ہے۔
۴
؎یعنی یہ حدیث منقطع ہے لیکن کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اعمال میں حدیث منقطع قبول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 880