Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 883

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هٰذَا الْفَتٰى يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ: فَحَزَرْنَا رُكُوعَهٗ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ وَسُجُودَهٗ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن ابن جبير قال: سمعت أنس بن مالك يقول: ما صليت وراء أحد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أشبه صلاة بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم من هذا الفتى يعني عمر بن عبد العزيز قال: قال: فحزرنا ركوعه عشر تسبيحات وسجوده عشر تسبيحات. رواه أبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن جبیر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ابن مالک کو فرماتے سنا۲؎کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے بعد کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھی۳؎جس کی نماز اس جوان یعنی عمر ابن عبدالعزیز کے مقابل حضور صلی الله علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہ ہو فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ۴؎کہ ہم نے ان کا رکوع دس تسبیح اور سجدہ دس تسبیح کا اندازہ کیا ۵؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سعید ابن جبیرہے،اسدی ہیں،کوفی ہیں،عظیم الشان تابعی عبد الله ابن عباس وابن عمر وابن زبیروغیرہم صحابہ سے ملاقات ہے۔رضی الله عنہم،۹۵ھ∞ میں حجاج ابن یوسف ظالم کے ہاتھوں شہید ہوئے،۴۹ سال عمر ہوئی،واسط علاقۂ عراق میں دفن ہوئے،آپ کی قبر زیارت گاہ مسلمین ہے،آپ کی شہادت کاعجیب وغریب واقعہ ہے،شعبان میں حجاج نے آپ کو شہید کیا اور پندرہ بیس روز بعد رمضان میں خودفوت ہوگیا،اس دوران کبھی رات کو سو نہ سکا،کہتاتھا کیاکروں آنکھ لگتے ہی سعید میرے پاؤں پکڑکر گھسیٹتے ہیں،آپ نے بوقت شہادت کہا تھا کہ تومیرے بعدکسی کو شہید نہ کرسکے گا ایسا ہی ہوا۔(اکمال)
۲
؎یہی صحیح ہے۔بعض روایات میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے وہ غلط ہے اس لیے کہ عمر ابن عبدالعزیزکی پیدائش حضرت ابوہریرہ کی وفات کے بعد ہے،ہاں حضرت انس نےعمر ابن عبدالعزیز کا زمانہ پایاہے کیونکہ حضرت انس کی وفات۹۱ھ ∞ میں ہے اورعمر ابن عبدالعزیز کی ولادت۶۱ھ ∞ میں ہے۔(ازلمعات ومرقات)
۳
؎یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعدکسی تابعی کی نماز،لہذا اس کے یہ معنی نہیں کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز کی نمازصحابہ کرام اور خلفائے راشدین سےبھی بہترتھی،یہ کیسےہوسکتاہے کہ خود حضرت انس کی نمازحضور صلی الله علیہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ نہ ہو۔
۴
؎پہلےقَالَکا فاعل کوئی اور راوی ہے،دوسرےقَالَکا فاعل حضرت سعیدہیں،یعنی جب حضرت انس نے انکی نماز کی ایسی تعریف کی تو ہم نے ان کے ارکان نماز کا اندازہ لگایا،بعض شارحین نے فرمایا کہ پہلےقَالَکا فاعل سعید ہیں اور دوسرے کا فاعل حضرت انس لیکن پہلی توجیہ زیادہ قوی ہے۔
۵
؎یہ اندازہ تھا ورنہ آپ کی تسبیحیں نویا گیارہ ہوں گی کیونکہ تسبیحات رکوع طاق ہونا بہتر ہیں اور یہ بھی نوافل میں ہوگاکیونکہ فرائض میں تسبیح کم ازکم تین بار درمیانی پانچ بار اور زیادہ سات بار ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 883