Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 885

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهٖ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهٖ قَالَ: لَا يُتِمُّ رُكُوعَها وَلَا سُجُودَها . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أسوأ الناس سرقة الذي يسرق من صلاته» . قالوا: يا رسول الله وكيف يسرق من صلاته قال: لا يتم ركوعها ولا سجودها . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ لوگوں میں بدترین چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرے لوگ بولے یا رسول الله اپنی نماز میں چوری کیسےکرے گا فرمایا کہ رکوع اور سجدہ پورا نہ کرے ۱؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎واہسُبْحَانَ اللّٰهِ !کیا نفیس تمثیل ہے یعنی مال کے چور سے نماز کا چور بدتر ہے کیونکہ مال کا چور اگر سزا پاتا ہے تو کچھ نفع بھی اٹھالیتا ہے مگر نماز کا چور سزا پوری پائے گا نفع کچھ حاصل نہیں کرتا،نیز مال کا چور بندے کا حق مارتا ہے نماز کا چور الله کا حق،نیز مال کا چور یہاں سزا پاکر عذاب آخرت سے بچ جاتا ہے مگر نماز کے چور میں یہ بات نہیں،نیز بعض صورتوں میں مال کے چور کو مالک معاف کرسکتا ہے لیکن نماز کے چور کی معافی کی کوئی صورت نہیں۔خیال کرو کہ جب نماز ناقص پڑھنے والوں کا یہ حال ہے تو جو سرے سے پڑھتے ہی نہیں ان کا کیا حال ہے۔پھر جو کل یابعض نمازوں کے منکر ہوچکے جیسےبھنگی، پوستی فقیر اور چکڑالوی وغیرہم ان کا کیا پوچھنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 885