Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 882

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيَقُولُ فِي رُكُوعِهٖ: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ والمَلَكُوْتِ وَالكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

عن عوف بن مالك قال: قمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما ركع مكث قدر سورة البقرة ويقول في ركوعه: «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» . رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوا ۲؎جب آپ نے رکوع کیا تو سورۂ بقرکی بقدرٹھہرے۳؎اور رکوع میں فرماتے تھے پاک ہے غلبے والا ملکوت بڑائی اورعظمت والا۴؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،اشجعی ہیں،غزوہ خیبر اور فتح مکہ میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے بلکہ فتح مکہ کے دن بنی اشجع کاجھنڈا آپ ہی کے ہاتھ میں تھا،شام میں قیام رہا اور وہاں ہی۷۳ھ ∞ میں وفات پائی۔
۲
؎تہجدکی نماز میں آپ کے ساتھ تہجداداکرنے کےلیے،چونکہ آپ اکیلےمقتدی تھے اس لیےحضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے اگر چند ہوتے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتٍے۔خیال رہے کہ تہجد جماعت سے جائزہے بشرطیکہ اس جماعت کے لیے اہتمام نہ کیاجائے اتفاقًا دوچارنمازی جمع ہوجائیں اور جماعت کرلیں یہاں ایسا ہی تھا۔
۳
؎یعنی اتنا دراز رکوع کیا کہ تلاوت کرنے والا سورۂ بقر پڑھ لے۔ معلوم ہوا کہ نماز تہجد و کسوف وغیرہ میں رکوع قیام کے برابر ہونا بہتر ہے، فرائض میں رکوع قیام سے کم چاہیے، لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۴
؎جبروت ملکوتمبالغے کے صیغے ہیں۔جبروتجبر، بمعنی غلبے سے بنا یعنی ہر غالب پر غالب،ملکوتملك،بمعنی قبضہ سے بنا، ظاہری قبضہ کو ملک اور باطنی قبضہ کو ملکوت کہا جاتاہے۔ رب تعالٰی ہمارےجسم کابھی مالک ہے اورنفس و روح کابھی اسی لیے مخلوق کے لیے عطاءً ملک ثابت ہے ملکوت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 882