Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 884

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ: إِنَّ حُذَيْفَةَ رَأٰى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهٗ وَلَا سُجُودَهٗ فَلَمَّا قَضٰى صَلَاتَهٗ دَعَاهُ فَقَالَ لَهٗ حُذَيْفَةُ: مَا صَلَّيْتَ. قَالَ: وَأَحْسِبُهٗ قَالَ: وَلَوْ مِتَّ مِتَّ عَلیٰ غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ اللهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن شقيق قال: إن حذيفة رأى رجلا لا يتم ركوعه ولا سجوده فلما قضى صلاته دعاه فقال له حذيفة: ما صليت. قال: وأحسبه قال: ولو مت مت علی غير الفطرة التي فطر الله محمدا صلى الله عليه وسلم . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شقیق سے ۱؎فرماتےہیں کہ حضرت حذیفہ نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنا رکوع اور سجدہ پورا نہیں کرتا تھا ۲؎جب اس نے اپنی نماز پوری کی تو اسے بلایا اور اس سے حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۳؎فرماتے ہیں مجھے خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ اگر تو مرا تو تو اس طریقہ کے خلاف مرے گا جس پر الله نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو پیدا کیا ۴؎ (بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام شقیق ابن سلمہ ہے، کنیت ابووائل، کوفی ہیں، مخضرمی ہیں، جلیل القدر صحابی ہیں، خلفائے راشدین سے احادیث لی ہیں،۹۹ھ ∞ میں وفات ہوئی۔(تہذیب و اکمال)
۲
؎یعنی انہیں اطمینان سے ادا نہیں کرتا تھا،اطمینان شوافع کے ہاں فرض ہے اوراحناف کے ہاں واجب۔۳؎کامل نہیں پڑھی(حنفی)صحیح نہیں پڑھی(شافعی)۔
۴
؎یعنی اگر تو ناقص نماز پڑھنے کا عادی رہا تو سنت انبیاء کا مخالف ہوکر مرے گا یا اگر تو اس عیب کو اچھا جانتا رہا تو تیرا خاتمہ کفر پر ہوگا۔ فطرت دین اسلام کو بھی کہتے ہیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی پیدائشی عادت کریمہ کوبھی اور سنت انبیاءکو بھی۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ جو ترک سنت ہدیٰ کا عادی ہو اس کا خاتمہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور جو کسی سنت کو حقیر جانے وہ کافر ہے۔اس کا ماخذ قرآنی آیات بھی ہیں اور اس جیسی بہت سی احادیث ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 884