Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 881

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُذَيْفَةَ: أَنَّهٗ صَلّٰى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وکَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهٖ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» وَفِي سُجُودِهٖ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَ عَلیٰ » . وَمَا أَتٰى عَلٰى اٰيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ وَمَا أَتٰى عَلٰى اٰيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ وَتَعَوَّذَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَارمِيْ وَرَوَى النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلٰى قَوْلِهٖ: «الْأَ عَلیٰ » . وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

وعن حذيفة: أنه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم وکان يقول في ركوعه: «سبحان ربي العظيم» وفي سجوده: «سبحان ربي الأ علی » . وما أتى على اية رحمة إلا وقف وسأل وما أتى على اية عذاب إلا وقف وتعوذ. رواه الترمذي وأبو داود والدارمي وروى النسائي وابن ماجه إلى قوله: «الأ علی » . وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت حذیفہ سے کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ رکوع میں "سبحان ربی العظیم" اور سجدہ میں"سبحان ربی الاعلی"کہتے تھے اور رحمت کی آیت پر نہیں پہنچتے مگر ٹھہر جاتے اور مانگ لیتے اور عذاب کی آیت پر نہیں پہنچتے مگر ٹھہرتے اور پناہ مانگتے ۱؎(ترمذی، ابو داؤد، دارمی، نسائی)اور ابن ماجہ نےالاعلیٰتک روایت کی، ترمذی نے فرمایا کہ یہ حسن ہےصحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎ یہاں نفل نماز مراد ہے، فرائض میں دوران قرأت ٹھہرنا اور مانگنا مستحب کے خلاف ہے اگرچہ جائز ہے اسی لیے مرقات نے فرمایا کہ اگر یہکَانَ یَقُوْلُدوام کیلیے ہو تب نفل مراد ہیں اگر اتفاقی واقعہ کا ذکر ہے کہ کبھی کبھی ایسا کہہ لیتے تو فرض نماز مراد۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 881