Main Icon

باب :رکوع - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 871

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهٖ وَسُجُودِهٖ: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يكثر أن يقول في ركوعه وسجوده: «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي» يتأول القرآن (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدہ میں زیادہ یہ کہتے تھے الٰہی اے ہمارے رب توپاک ہےتیری حمدہے خدایا مجھےبخش دے قرآن پرعمل کرتےتھے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وفات شریف کے قریب جب یہ آیت کریمہ اتری"فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ"تو آپ نوافل خصوصًا تہجد کے رکوع سجدے میں یہ پڑھاکرتے تھے۔ظاہریہی ہے کہ یہ دعائیں نوافل میں تھیں کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم فرائض مسجد میں پڑھاتےتھے۔اس وقت عائشہ صدیقہ آپ سے بہت دورہوتی تھیں،ہاں تہجد وغیرہ نوافل گھر میں پڑھتےتھے اس لیے آپ بخوبی یہ سب کچھ سن لیتی تھیں۔خیال رہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کااپنےلیے دعائے بخشش کرناتعلیم امت کےلیےتھایا اس لیے کہ استغفاربھی عبادت ہے اوربلندیٔ درجات کا ذریعہ،ورنہ آپ گناہوں سے معصوم ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 871