- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 193
باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 193
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ كانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، فَإِنَّ الْحَيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ. أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانُوا أَفْضَلَ هٰذِهِ الأُمَّةِ، أَبَرَّهَا قُلُوبًا، وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا، وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا، اخْتَارَهُمُ اللّٰهُ لِصُحْبَۃِ نَبِيِّهٖ وَلإِقَامَةِ دِينِهٖ، فَاعْرِفُوْا لَهُمْ فَضْلَهُمْ، وَاتَّبِعُوهُمْ عَلٰی آثَارِهِمْ، وَتَمَسَّكُوا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ أَخْلَاقِهِمْ وَسِيَرِهِمْ، فَإِنُّهُمْ كَانُوْا عَلَى الْهُدَي الْمُسْتَقِيْمِ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
وعن ابن مسعود قال: من كان مستنا فليستن بمن قد مات، فإن الحي لا تؤمن عليه الفتنة. أولئك أصحاب محمد -صلى الله عليه وسلم - كانوا أفضل هذه الأمة، أبرها قلوبا، وأعمقها علما، وأقلها تكلفا، اختارهم الله لصحبۃ نبيه ولإقامة دينه، فاعرفوا لهم فضلهم، واتبعوهم علی آثارهم، وتمسكوا بما استطعتم من أخلاقهم وسيرهم، فإنهم كانوا على الهدي المستقيم. رواه رزين.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ۱؎جو سیدھی راہ جانا چاہے وہ وفات یافتہ بزرگوں کی راہ چلے ۲؎کہ زندہ پر فتنہ کی امن نہیں ۳؎وہ بزرگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں جو اس امت میں بہترین ۴؎دل کے نیک علم کے گہرے اور تکلف میں کم تھے ۵؎اللہنے انہیں اپنے نبی کی صحبت اور اپنے نبی کا دین قائم رکھنے کے لیے چن لیا۶؎ان کی بزرگی مانو ان کے آثار قدم پر چلو بقدر طاقت ان کے اخلاق و سیرت کو مضبوط پکڑو کہ وہ سیدھی ہدایت پر تھے ۷؎(رزین)
شرح حدیث
۱∞؎یہ حدیث موقوف ہے نہ کہ مرفوع یعنی حضرت ابن مسعود صحابی کا اپنا فرمان ہے صحابی کے قول وفعل حدیث موقوف کہلاتے ہیں حضور کا قول و فعل حدیث مرفوع۔
۲؎یہ ترجمہ نہایت اعلٰی ہے اشعۃ اللمعات نے اسی کو اختیار فرمایا اس میں تابعین سے خطاب ہے یعنی تا قیامت جو کوئی سیدھی راہ چلنا چاہے وہ صحابہ کی پیروی کرے خود قرآن و حدیث سے استنباط مسائل پر قناعت نہ کرے اسی لیئے مجتہدین آئمہ صحابہ کے پیرو ہیں اس کی تائید وہ حدیث کرتی ہے کہ میرے صحابہ تارے ہیں جن کی پیروی کرو ہدایت پاجاؤ گے اور قرآن کریم کی یہ آیت"صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیْھِمْ"خدایا ہمیں ان کی راہ چلا جن پر تو نے انعام کیا سب سے بڑے انعام والے صحابہ ہیں۔خیال رہے کہ یہاں زندوں سے مراد غیر صحابہ ہیں اور وفات پانے والوں سے سارے صحابہ زندہ ہوں یا وفات یافتہ۔جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے چونکہ اس وقت اکثر صحابہ وفات پاچکے تھے اس لیئے ایسا فرمایا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ مرے ہوئے کافروں کی اتباع کرنی چاہیئے،زندہ اولیاء،علماءبلکہ صحابہ کی بھی اتباع درست نہیں۔مرقاۃ نے فرمایا یہ کلام حضرت ابن مسعود نے انکسارًا فرمایا ورنہ اس وقت آپ اور تمام زندہ صحابہ قابل اتباع تھے۔
۳؎یہاں زندہ سے موجودہ تابعین مراد ہیں کیونکہ صحابہ سےاللہرسول کا وعدہ جنت ہوچکا ہے رب نے فرمایا:"وَ اَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی"
ا ور فرمایا "اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوۡبَہُمْ لِلتَّقْوٰی"اور فرمایا:"وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوۡقَ وَ الْعِصْیَانَ" جس سے پتہ لگا کہ رب نے صحابہ کے لیئے ایمان لازم کردیا یا ان کے دلوں میں کفر اور فسق سے نفرت پیدا فرمادی خصوصًا حضرت ابن مسعود کو تو جنت کی بشارت دی جاچکی تھی۔خیال رہے کہ مرتد صحابی نہیں رہتا،ارتداد سے صحابیت ختم ہوجاتی ہے۔
۴؎یعنی جن کی وفات ایمان پر ہوچکی ان کی صحابیت پختہ ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ تمام اولیاء وعلماء ایک صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے،پھول کی صحبت میں تل مہک جاتا ہے،حضور کی صحبت میں دل کیوں نہ مہکے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب"امیرمعاویہ" میں دیکھو،پھربعض صحابہ بعض سے افضل ہیں،رب فرماتا ہے:"لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ"الایہ۔فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے صحابہ بعد کو ایمان لانے والے صحابہ سے افضل ہیں۔خیال رہے کہ صحابی وہ ہے جو بحالت ایمان و ہوش حضورکو دیکھے اور ایمان پر خاتمہ ہو۔
۵؎سبحان اللّٰه!یہ صحابہ کی صفات ہیں کہ وہ ہر طرح حضور کے مطیع،سارے علوم کے جامع،بناوٹ دکھلاوے سے پاک،ان میں سے ہر ایک مفسر،محدث،فقیہ،قاری،صوفی اور فرائض دان تھے۔اس کے باوجود ننگے پاؤں پھیر لیتے تھے،فرش خاک پر سو رہتے تھے،معمولی کھانوں پر گزارا کرلیتے تھے،بے علم فتوٰی دینے پر جرات نہ کرتے تھے،بدن کے فرشی تھے،روح کے عرشی،ظاہر میں خلق کے ساتھ تھے،باطن میں خالق کے پاس گودڑی میں لپٹے ہوئے لعل تھے۔
۶؎حضور کی صحبت اکسیر کی تایثر رکھتی ہے اگر ان میں کچھ بھی خرابی ہوتی تو رب اپنے حبیب کو ان کے ساتھ نہ رکھتا،مہربان باپ اپنے عزیز بیٹے کے لیئے اچھے یار تلاش کرتا ہے۔رب تعالٰی نے اپنے حبیب کی صحبت کے لیئے اچھے صحابہ چنے،نیز موتی اچھے ڈبّے میں رکھا جاتا ہے،رب نے قرآن کی امانت اچھے سینوں میں رکھی،وہی حضرات قرآن و حدیث کے جامع،وہی ہم تک دین پہنچانے والے ہیں،رب نے ان کو ایمان کی کسوٹی بنایا کہ فرمایا "اٰمَنُوۡا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ فَقَدِ اهتَدَوۡا"اے صحابہ! جو تم جیسا ایمان لائے گا وہ ہدایت پائے گا۔خیال رہے کہ حضور نے مخلصین و منافقین کی چھانٹ خود کردی تھی سو رۂ توبہ کے نزول کے بعد منافق چھٹ گئے تھے۔جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے فرماتا ہے:"حَتّٰی یَمِیۡزَ الْخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّب"۔
۷؎جیسےاللہکی اطاعت بغیر حضور کی پیروی ناممکن،ایسے ہی حضور کی پیروی بغیر صحابہ کی اتباع ناممکن ہے۔حضور آئینہ خدا نما ہیں اور صحابہ آئینہ رسول نما،سبحان اللّٰه!جب حضرت ابن مسعود جیسے عظیم الشان مؤمن صحابہ کی ایسی تعریف کررہے ہیں تو ان کی افضیلت میں کسے کلام ہوسکتا ہے،صحابہ کا انکار حقیقت میں حضور کے فیض کا انکار ہے کہنعوذ باللّٰهحضور نے۲۳ سال کی تبلیغ میں صرف چار پانچ صحابی بنائے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 193