Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 189

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ إِبْرَاهِيْمَ ابْنِ مَيْسَرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلٰی هَدْمِ الْإِسْلَامِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْاِيْمَانِ مُرْسَلًا

وعن إبراهيم ابن ميسرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من وقر صاحب بدعة فقد أعان علی هدم الإسلام» . رواه البيهقي في شعب الايمان مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابراہیم ابن میسرہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نے بدعتی کی تعظیم کی یقینًا اس نے اسلام ڈھانے پر مدد دی۲؎اسے بیہقی نےشعب الایمانمیں مرسلًا روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،طائف شریف کے رہنے والے ہیں،متقی پرہیزگار ہیں لہذا یہ حدیث مرسل ہے کہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں۔
۲
؎یہاں بدعت سے مراد دینی بدعت ہے اور صاحب بدعت بے دین شخص اور توقیر سے اس کی بلا ضرورت تعظیم مراد ہے۔ضروریات کی معافی ہے یعنی بے دینوں کی تعظیم اسلام کو ویران کرنا ہے کہ ہماری تعظیم سے عوام کے دل میں ان کی عقیدت پیدا ہو گی جس سے وہ ان کا شکار ہوجائیں گے جیسے مسلمان کی تعظیم ثواب ہے،ایسے ہی بے دین کی توہین ثواب کہ وہ دشمن ایمان ہے۔"باب القدر" میں گزر چکا کہ سیدنا عبد اللہ ابن عمر نے ایک قدریہ مذہب رکھنے والے کے سلام کا جواب نہ دیا وہ عمل اس حدیث کی تفسیر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 189