Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 172

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَأَبِي دَاوٗدَ عَنْ مُعَاوِيَةَ: «ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ تَتَجَارٰى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارٰى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهٖ لَا يَبْقٰى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهٗ»

وفي رواية أحمد وأبي داود عن معاوية: «ثنتان وسبعون في النار وواحدة في الجنة وهي الجماعة وإنه سيخرج في أمتي أقوام تتجارى بهم تلك الأهواء كما يتجارى الكلب بصاحبه لا يبقى منه عرق ولا مفصل إلا دخله»

حدیث ترجمہ

اور احمدوابوداؤد میں معاویہ کی روایت سے یہ ہے کہ بہتّر دوزخی اور ایک جنتی ہے اور وہ بڑا گروہ (جماعت مسلمین)ہے ۱؎میری امت میں ایسی قومیں نکلیں گی جن میں بدعت ایسی سرایت کر جائیں گی جیسے دیوانہ کتے کا زہر کاٹے ہوئے ہیں کہ جس کی کوئی رگ اور جوڑ سرایت کئے نہیں بچتا۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس میں بتایا گیا کہ جنتی ہونے کے لیئے دوچیزوں کی ضرورت ہے:سنت کی پیروی اور جماعت مسلمین کے ساتھ رہنا۔اسی لیئے ہمارے مذہب کا نام اہل سنت والجماعت ہے۔جماعت سے مراد مسلمانوں کا بڑا گروہ ہے جس میں فقہاء،علماء،صوفیاء اور اولیاءاللہہیں۔الحمدﷲ!یہ شرف بھی اہلسنت ہی کو حاصل ہے،سوا اس فرقہ کے اولیاءاللہکسی فرقہ میں نہیں۔خیال رہے کہ یہ۷۳ کا عدد اصولی فرقوں کا ہے کہ اصولی فرقہ ایک جنتی اور۷۲جہنمی۔چنانچہ اہل سنت میں حنفی،شافعی،مالکی،حنبلی،چشتی،قادری،نقش بندی،سہروردی ایسے ہی اشاعرہ یا تریدیہ سب داخل ہیں کہ عقائد سب کے ایک ہی ہیں اور ان سب کا شمار ایک ہی فرقہ میں ہے۔ایسے ہی بہتر ناری فرقوں کا حال ہے کہ ان میں ایک ایک فرقے کے بہت ٹولے ہیں۔مثلًاایک فرقہ روافض کے بہت ٹولے ہیں،بارہ امامئے،چھ امامئے،تین امامئے ایسے ہی دیگر فرقوں کا حال ہے۔لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اسلامی فرقے کئی سو ہیں۔اس کی تفصیل مرقاۃ وغیرہ میں دیکھو۔۲∞؎یعنی برے عقیدے اور بدعتیں ان کے خیالات و اعمال میں چھا جائیں گے۔خیال رہے کہ حضور نے سانپ کاٹے کی تشبیہ نہ دی کیونکہ اس کا زہر دل یا دماغ پر پہنچتے ہی موت واقع ہوجاتی ہے۔وہ اوروں کونہیں کاٹتا مگر دیوانہ کتاکا کاٹا ہو اعرصہ تک زندہ رہتا ہے جسے یہ کاٹ لے اسے بھی اپنے جیساکرلیتا ہے۔یہی بدمذہبوں کا حال ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 172