Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 160

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: "ذَرُوْنِيْ مَا تَرَكْتُكُمْ" في "كِتَابِ الْمَنَاسِكِ"، وحَدِيْثَيْ مُعَاوِيَةَ وَجَابِرٍ: "لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِيْ" و"لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِيْ" في بَابِ ثَوابِ هٰذِهِ الأُمَّةِ، إنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها". متفق عليه وسنذكر حديث أبي هريرة: "ذروني ما تركتكم" في "كتاب المناسك"، وحديثي معاوية وجابر: "لا يزال من أمتي" و"لا يزال طائفة من أمتي" في باب ثواب هذه الأمة، إن شاء الله تعالی

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا ایمان مدینہ کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف ۱؎(مسلم وبخاری)اور ہم حضرت ابوہریرہ کی حدیثذرونیالخکتاب الحجمیں اورحضرت معاویہ وجابر کی حدیثیںلایزال من امتیالخاورلایزال طائفۃ من امتیان شاءاللهبَابُ ثَوَابِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِمیں بیان کریں گے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ آخر زمانہ میں ہوگا کہ مسلمانوں کو دنیا میں کہیں امن نہ ملے گی تو وہ اپنا ایمان بچانے کے لیئے مدینے کی طرف بھاگیں گے،مدینہ پہلے بھی مسلمانوں کا جائے امن بنا اور آیندہ بھی بنے گا کیوں نہ ہو کہ یہاں دونوں عالم کے پناہ صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ فرما ہیں غالبًا یہ واقعہ دجّال کے قریب ہوگا۔سانپ سے تشبیہ دینے میں ادھر اشارہ ہے کہ جیسے سانپ کو کوئی پناہ نہیں دیتا ایسے ہی آخر زمانہ میں لوگ اسلام کو سانپ کی طرح تکلیف دہ سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ مدینہ پاک اسلام سے کبھی خالی نہ ہوگا۔
۲
؎یعنی وہ تینوں حدیثیں مصابیح میں یہاں ہی تھیں لیکن ہم نے مناسبت کی وجہ سے ان بابوں میں ذکر کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 160