- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 147
باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 147
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَدِمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَةَ وَهُمْ يُؤبِّرُوْنَ النَّخْلَ، فَقَالَ: "مَا تَصْنَعُوْنَ قَالُوا: كُنَّا نَصْنَعُهُ، قَالَ: "لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا" فَتَرَكُوْهُ فَنَقَصَتْ، قَالَ: فَذَكَرُوْا ذٰلِكَ لَهُ فَقَالَ: "إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ؛ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهٖ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِيْ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن رافع بن خديج قال: قدم نبي الله صلى الله عليه وسلم المدينة وهم يؤبرون النخل، فقال: "ما تصنعون قالوا: كنا نصنعه، قال: "لعلكم لو لم تفعلوا كان خيرا" فتركوه فنقصت، قال: فذكروا ذلك له فقال: "إنما أنا بشر؛ إذا أمرتكم بشيء من أمر دينكم فخذوا به، وإذا أمرتكم بشيء من رأيي فإنما أنا بشر". رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے رافع ابن خدیج سے ۱؎فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے اہلِ مدینہ کھجوروں کی شادی کرتے تھے۲؎تو فرمایا تم یہ کیا کرتے ہو وہ بولے ہم پہلے سے ایسا کرتے آئے ہیں فرمایا ممکن ہے کہ تم یہ نہ کرو تو اچھا ہو۳؎لوگوں نے یہ شادی چھوڑ دی پھل کم ہوگئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ واقعہ آپ سے عرض کیا ۴؎تو فرمایا کہ میں ایک بشر ہوں جب تم کو کسی دینی کام کا حکم دوں تو اسے لے لو اور جب اپنی رائے سے کچھ کہوں تو میں بشرہی ہوں۵؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کی کنیت ابوعبداللہہے،حارثی ہیں،انصاری ہیں،غزوۂ احد میں تیر لگا تھا،مگر زخم مہلک نہیں ہوا بھر گیا تھا۔عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں وہ زخم پھر بہا،اسی سے آپ کی وفات ہوئی،سوا غزوۂ بدر کے کہ اس وقت آپ بچے تھے باقی تمام غزوات میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رہے۔چھیاسی سال کی عمر پا کر ۷۳ھمیں مدینہ منورہ میں وفات پائی وہیں دفن ہوئے۔
۲؎اس طرح کہ نرکھجور کی شاخ مادہ کھجور میں پیوندکردیتے تھے جس سے پھل زیادہ اور اچھے ہوتے تھے ہمارے ہاں اسے درخت یا باغ کی شادی کہا جاتا ہے اس موقع پر باغ والے بڑی خوشی مناتے ہیں۔خیال رہے کہ درختوں میں بھی نر اور مادہ ہیں بعض کو لوگ جانتے ہیں،بعض کو نہیں،نر درخت سے ہوا مس کرکے جب مادہ میں لگتی ہے تو اس سےپھل آتے ہیں۔مرقاۃ میں فرمایا کہ آدم علیہ السلام کی بچی ہوئی مٹی سے کھجور کا درخت پیدا ہوگیا اس لیئے اس میں نرمادہ کا اجتماع ضروری ہے۔
۳؎کہ تم اس مشقت سے بچ جاؤ اور پھل بھی جو مقدر میں ہیں ملیں اور تمہیں تو کل کا درجہ نصیب ہو۔
۴؎بعض علماء نے فرمایا کہ ان حضرات نے صبر سے کام نہ لیا بلکہ جلد ہی شکایت کردی اگر توکل کرکے کچھ روز نقصان برداشت کرتے تو بڑی برکت دیکھتے۔حضور کی رائے بھی مبارک ہے۔خیال رہے کہ حضور باغ کے اس رمز سے بے خبر نہ تھے بلکہ انہیں توکل کا سبق دیا تھا بے خبری کیسے ہوسکتی ہے حضوراعلم الاولین والاخرینہیں،کیسے ہوسکتا ہےکہ باغ والے تو اس چیز کو جانیں اور حضور نہ جانیں۔یوسف علیہ السلام نے کبھی کاشتکار ی نہ کی مگر بادشاہ مصر سے فرمایا:"فَمَا حَصَدۡتُّمْ فَذَرُوۡہُ فِیۡ سُنۡۢبُلِہٖۤ" گندم بھوسہ سے الگ نہ کرو تاکہ خراب نہ ہو اور قحط میں کام آئے۔نیز آپ نے کبھی سلطنت نہ کی تھی مگر بادشاہ مصر سے فرمایا کہ مجھے خزانوں کا حاکم بنادے"اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ"میں سب کچھ جانتا ہوں،سب قحط والوں کو سنبھال لوں گا۔جب یوسف علیہ السلام کے علم کا یہ عالم ہے تو ہمارے حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس معمولی بات سے کیسے بے خبر ہو سکتے ہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاء الحق"میں دیکھو۔
۵؎یعنی ہمارے فرمان دوقسم کے ہیں:شرعی احکام اور دنیوی رائے شریف۔شرعی احکام لازم العمل ہیں کیونکہ وہاں نبوت اور نورانیت کا لحاظ ہے مگر رائے مبارک کا قبول کرنا مستحب ہے نہ ماننے کا بھی اختیار ہےلیکن بڑا یاحقیرجاننا اس کا بھی کفر ہوگا۔یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے اور یہی اس حدیث کا مطلب ہے کہ میرا کلام قرآن کو منسوخ نہیں کرسکتا،یعنی رائے اور مشورےکیونکہ رائے میں حضور کی بشریت کی جلوہ گری ہے۔خیال رہے کہ حضور کا اپنے کو بشر فرمانا آپ کاکمال ہے۔ہم اگر یہ لفظ اہانت یا برابری کے دعویٰ سے کہیں تو کافر ہوجائیں گے۔شیطان نبی کی حقارت کرکے اور انہیں بشر کہہ کر ہی کافر ہوا کہ کہا"مَا کُنْتُ لِاَسْجُدَ لِبَشَرٍ"یونس علیہ السلام نے اپنے کو ظالم کہا:"اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ"کوئی اورشخص نبی کو ظالم کہے تو خود ظالم ہوجائے،بادشاہ کہے میں آپ کا خادم ہوں اس کا کمال ہے لیکن اور کوئی کہے تو سزا پائے گا۔خیال رہے کہ حکم اور مشورے کا فرق قرآن کریم میں موجود ہے فرماتا ہے: "اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ"(نماز قائم کرو)یہ حکم ہے جس کا تارک گنہگار ہے اور فرماتا ہے:"اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوۡہ"جب کسی کو وقت مقرر تک قرض دو تو لکھ لو،یہ قرآن کا مشورہ ہے جس پرعمل نہ کرنا گناہ نہیں،دنیاوی سلاطین بھی اپنی رعایا کوکبھی حکم دیتے ہیں کبھی مشورہ۔احکام قرآنیہ میں رب تعالٰی کی سلطنت اورقدرت کاظہور ہے اور اس کےمشوروں میں رب کی رحمانیت کی جلوہ گری۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 147