- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 144
باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 144
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتْ مَلَائِكَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ، فَقَالُوْا: إِنَّ لِصَاحِبِكُمْ هٰذَا مَثَلًا فَاضْرِبُوْا لَهٗ مَثَلًا، قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهُ نَائِمٌ،وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ الْعَيْنَ نائِمَةٌ، وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ، فَقَالُوا: مَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰى دَارًا وَجَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً وَبَعَثَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ، وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، وَمَنْ لَمْ يُجبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، فَقَالُوا: أَوِّلُوهَا لَهُ يَفْقَهْهَا، قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهُ نائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ، وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ، فَقَالُوْا: الدَّارُ الْجَنَّةُ، وَالدَّاعِيْ مُحَمَّدٌ، فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ، وَمَنْ عَصٰى مُحَمَّدًا فَقَدْ عَصَى اللهَ، وَمُحَمَّدٌ فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
وعن جابر قال: جاءت ملائكة إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو نائم، فقالوا: إن لصاحبكم هذا مثلا فاضربوا له مثلا، قال بعضهم: إنه نائم،وقال بعضهم: إن العين نائمة، والقلب يقظان، فقالوا: مثله كمثل رجل بنى دارا وجعل فيها مأدبة وبعث داعيا، فمن أجاب الداعي دخل الدار، وأكل من المأدبة، ومن لم يجب الداعي لم يدخل الدار، ولم يأكل من المأدبة، فقالوا: أولوها له يفقهها، قال بعضهم: إنه نائم، وقال بعضهم: إن العين نائمة، والقلب يقظان، فقالوا: الدار الجنة، والداعي محمد، فمن أطاع محمدا فقد أطاع الله، ومن عصى محمدا فقد عصى الله، ومحمد فرق بين الناس. رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ حضور کی بارگاہ میں فرشتے حاضر ہوئے جب کہ آپ سو رہے تھے ۱؎ تو بولے کہ تمہارے ان صاحب کی ایک کہاوت ہے ان سے بیان کردو۲؎ تو بعض بولے کہ وہ سورہے ہیں اور بعض نے کہا کہ ان کی آنکھیں سو رہی ہیں اور دل شریف بیدار ہے ۳ ؎ تو بولے تمہارے ان محبوب کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص گھر بنائے وہاں دستر خوان رکھے اور بلانے والے کو بھیج دے تو جو اس بلانے والے کی بات مان لے وہ گھر میں آئے گا دستر خوان سے کھائے گا اور جو نہ مانے وہ نہ آئے نہ اس کے دستر خوان سے کچھ کھاسکے ۴؎ پھر بولے کہ اس کا مطلب بھی عرض کردو تاکہ خوب سمجھ لیں ۵؎ تو بعض بولے کہ وہ تو سو رہے ہیں بعض نے کہا کہ آنکھیں سو رہی ہیں اور دل جاگتا ہے ۶؎ تو بولے کہ گھر تو ہے جنت اور بلانے والے ہیں محمد مصطفے ۷؎ جو حضور کی اطاعت کرے وہاللهکا مطیع ہے اورجس نے حضور کی نافرمانی کی اس نےاللهکی نافرمانی کی ۸ ؎ اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)لوگوں میں طرۂ امتیاز ہیں ۹ ؎ (بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎غالب یہ ہے کہ یہ واقعہ حضرت جابر سے خود حضور نے بیان فرمایا جیسا کہ ترمذی کی روایت میں ہے۔ملائکہ سے مراد فرشتوں کی بعض جماعت ہے جن میں حضرت جبرئیل و میکائیل بھی داخل ہیں۔حضرت جبریل آپ کے سرہانے تھے اور میکائیل پائینتی،جیساکہ اسی ترمذی میں ہے اور ہوسکتا ہے کہ حضرت جابر نے خود یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اور یہ گفتگو اپنے کانوں سے سنی ہوجیساکہ اسی ترمذی میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے ثابت ہے۔صحابہ فرشتوں کو کبھی دیکھتے بھی تھے اور ان کا کلام بھی سنتے تھے۔(مرقاۃ)
۲؎تاکہ وہ سن کر اپنی امت کو پہنچادیں کیونکہ نبی کی خواب بھی وحی ہے۔
۳؎یعنی بعض فرشتوں نے تو کہا کہ سوتے ہوئے کے سامنے گفتگو بیکار ہے۔جاگنے کے بعد بیان کرنا مگر بعض نے جواب دیا کہ ان کی نیند اوروں کی سی نہیں۔یہ سوتے میں بھی دوسرے جاگنے والوں سے زیادہ ہوش رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ فرشتوں کی یہ گفتگو بھی ہمیں سنانے کے لیئے ہے تاکہ ہم نبی کی نیند کے بارے میں یہ عقیدہ رکھیں ورنہ اس مسئلے سے سارے فرشتے واقف ہیں۔مرقاۃ نے فرمایا کہ قوت قدسیہ والے سونے میں زیادہ قوی احساس رکھتے ہیں اسی لیئے انبیاءکرام کی نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا کہ وہ بے خبر نہیں ہوتے،تعریس کی رات حضور کا فجر کے وقت نہ اٹھنا اور نماز قضا ہوجانا غفلت سے نہ تھا۔بلکہ رب تعالٰی نے اپنےمحبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرکے نماز قضاءکرادی تاکہ امت کو قضائے نماز کا احکام معلوم ہوں۔
۴؎مأْ دَبَةٌ اَدَبٌسے بنا،بمعنی کھانے کی دعوت جیسےمَعْتَبَةٌ عَتَبٌسے۔اصطلاح میں عام کھانے کومادبہکہا جاتا ہے جیسے ولیمہ وغیرہ۔اس تمثیل سے معلوم ہورہا ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلمسے منہ موڑ کر عبادتیں کرنے والا نہ جنت میں جاسکتا ہے،نہ وہاں کی نعمتیں کھاسکتا ہے،نہ رب تعالٰی اس سے راضی،کیونکہ "داعی الی ﷲ"حضور علیہ السلام ہی ہیں۔اس کی مثالیں توملتی ہیں کہ صرف حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر بغیراعمال لوگ جنتی ہوگئے،شروع اسلام میں معراج سے پہلے تیرہ برس تک کوئی عبادت نہ تھی صرف حضور علیہ السلام کو ماننا عبادت تھا اس وقت فوت ہونے والے مؤمن سب جنتی تھے،بارہا ایسا ہوا کہ برسوں کا کافر ایمان قبول کرتے ہی مرگیا جنتی ہوا،مگر ایسی مثال نہ ملے گی کہ حضورعلیہ السلامکا انکار کرکے بقیہ عبادتیں کرکے کوئی جنتی ہوگیا ہو۔
۵؎یعنی یہ خواب بھی وحی ہو،اور خواب کی تعبیر بھی وحی سے سمجھائی جائے ورنہ حضور کا سمجھنا اس بیان پر موقوف نہ تھا۔
۶؎ان کا دوبارہ یہ گفتگو فرمانا تاکید کے لیئے ہے تاکہ کوئی مسلمان اس میں شک نہ کرے کہ نبی کی نیند غفلت کا باعث نہیں۔
۷؎حضورمخلوق کواللہکی طرف بلانے والے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ"مگر چونکہ دیدار الٰہی جنت ہی میں ہوگا اس لیئے حضور کو یہاں جنت کاداعیکہا گیا۔لہذ ا یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں
۸؎اس کی تفسیر وہ آیت ہے:"مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ"سبحان الله!عجیب معمّہ ہے فقطاللہکا مطیع حضور کا مطیع نہیں بلکہ حقیقتًا خدا کا بھی مطیع نہیں،مگر حضور کا مطیع اللہ کا مطیع ہے۔شیطاناللہکا مطیع تو تھا نبوت کے انکار سے خدا کا مطیع نہ رہا۔
۹؎یعنی کفر و ایمان،کافرو مؤمن میں فرق صر ف حضورعلیہ الصلوۃ والسلامکی ذات سے ہے کہ ان ہی کا ماننے والا مؤمن ہے ان کا منکر کافر۔توحید،جنت،دوزخ کا اعتقاد،فرشتوں کو مان لینا ایمان نہیں کہ شیطان ان سب کو مانتا تھا مگر کافر ہوا۔اسی طرح قومیت برادری کا ایک یا الگ ہونا حضور کے دم سے ہے۔حضور کا ماننے والا ہمارا ہم قوم ہے بھائی ہے،ہماری برادری ہے،اگرچہ کسی ملک کا ہو۔حضور کا منکر نہ ہماری قوم نہ ہماری برادری نہ ہم وطن اگرچہ رشتہ میں سگا بھائی ہو۔جس کا رشتہ حضور سے ٹوٹا اس کا رشتہ خلقت سے بھی ٹوٹا،خالق سے بھی،توریت شریف میں حضور کا نام"فارقلیط"ہے۔حضرت مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا کہ میرے بعد فارقلیط آئے گا،یوحنا کی انجیل میں ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا کہ جب تک میں نہ جاؤں فارقلیط نہ آئے وہ آکر تمہیں غیب کی خبریں دے گا چھپے راز بتائے گا۔(اشعۃ اللمعات وکتاب الوفاءباخبار المصطفی)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 144