- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 165
باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 165
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ: قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيْغَةًذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللهِ كَأَنَّ هٰذِهٖ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَأَوْصِنَا، فَقَالَ: "أُوصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِوَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِيْ فَسَيَرٰى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّيْنَ، تَمَسَّكُوْا بِهَا وَعَضُّوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا: الصَّلَاةَ.
وعنه: قال: صلی بنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم - ذات يوم، ثم أقبل علينا بوجهه فوعظنا موعظة بليغةذرفت منها العيون، ووجلت منها القلوب، فقال رجل: يا رسول الله كأن هذه موعظة مودع فأوصنا، فقال: "أوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعةوإن كان عبدا حبشيا، فإنه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الأمور، فإن كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة". رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه إلا أنهما لم يذكرا: الصلاة.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر ہماری طرف چہرہ کیا اورنہایت ہی بلیغ وعظ فرمایا جس سے اشک رواں ہوگئے دل ڈر گئے ۱؎ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ شاید یہ الوداعی وعظ ہے ۲؎لہذا کچھ وصیت فرمادیں حضور نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے،سلطان کی سننے،فرماں برداری کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ حبشی غلام ہی ہو ۳؎کیونکہ میرے بعد تم میں سے جو جیئے گا وہ بڑا اختلاف دیکھے گا ۴؎لہذا تم میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت مضبوط پکڑو ۵؎اسے دانت سے مضبوط پکڑلو نئی باتوں سے دور رہو کہ ہرنئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۶؎اسے احمد،ابوداؤد اورترمذی وابن ماجہ نے رویات کیا لیکن ان دونوں نے نماز کا واقعہ ذکر نہ کیا۔
شرح حدیث
۱∞؎یوں توحضور کے تمام وعظ ہی مؤثر ہوتے تھے لیکن خصوصیت سے یہ وعظ بہت پرتاثیرتھا۔جس میں عشق خدا،خوف کبریا کا دریا موجیں مار رہا تھا۔عشق سے آنسو بہے اورخوف سے دل ڈرے،بلیغ سے پرتاثیر مراد ہے۔
۲؎یعنی حضور کی وفات قریب ہے،اور آپ ایسی باتیں فرمارہے ہیں جیسی رخصت ہوتے وقت کی جاتی ہیں گویا آپ اپنی امت کو چھوڑ کر جارہے ہیں اور آخری نصیحتیں کررہے ہیں۔سبحان الله!صحابہ کرام کی ذکاوت کے قربان۔معلوم ہوتا ہے کہ واقعی حضور کی وفات قریب تھی اس لیئے ان کے کلام کی تردید نہ فرمائی گئی بلکہ خواہش پوری کردی گئی،پتہ لگا کہ حضور اپنے وقت وفات کو جانتے ہیں اور یہ ایسا جامع کلام ہے کہ سارے احکام اس میں آگئے۔تَقْوَی اللهمیں سارے دینی احکام اور سلطان کی اطاعت میں سارے سیاسی احکام شامل ہیں۔
۳؎یعنی اگر تمہارا امیر کالا حبشی غلام ہو تب بھی اس کی اطاعت کرو اس کا نسب و شکل نہ دیکھو اس کا حکم سنو۔خیال رہے کہ خلافت قریش سے خاص ہے مگر امارت ہر مسلمان کو مل سکتی ہے،لہذا یہ حدیث کے اس حدیث کے خلاف نہیں"اَلْخِلَافَۃُ لِلْقُرَیْش"نیز امیر کی اطاعت انہی احکام میں ہوگی جو خلاف شرع نہ ہوں،نیز اس کی اطاعت امیر بن جانے کے بعد ہوگی،یزید امیر بنا ہی نہ تھا،حضرت حسین رضیاللہعنہ نے اسے حاکم مانا ہی نہیں۔لہذا آپ کا عمل اس حدیث کے خلاف نہیں،امیر بنانا اور ہے اور امیر بن چکنے کے بعد اطاعت کرنا کچھ اور۔
۴؎سیاسی اختلاف بھی اور مذہبی بھی۔چنانچہ خلافت عثمانیہ کے آخر میں لوگوں میں سیاسی اختلاف پیدا ہوگیا اور خلافت حیدری میں سیاسی اختلاف کے ساتھ مذہبی اختلاف بھی رونما ہوگیا کہ جبریہ،قدریہ،رافضی،خارجی پیدا ہوگئے۔خیال رہے کہ خدا کے فضل سے صحا بہ میں دینی اختلاف نہ ہوا،سارے صحابہ حق پر رہے،حضور کا یہ کلمہ بہت جامع ہے اور آپ کی یہ پیشن گوئی ہو بہو صحیح ہوئی۔
۵؎ہر سنت لائق اتباع ہے مگر ہر حدیث لائق اتباع نہیں،حضور کے خصوصیات،منسوخ احکام اور اعمال حدیث ہیں مگر سنت نہیں اسی لیئے یہاں حدیث کو پکڑ نے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ سنت کو۔الحمد لِلّٰهِ !ہم اہل سنت ہیں دنیا میں اہل حدیث کوئی نہیں ہوسکتا۔صحابہ کرام کے اعمال و افعال بھی لغوی معنے سے سنت ہیں یعنی دین کا اچھا طریقہ اگرچہ ان کی ایجادات بدعت حسنہ ہیں،عمر فاروق نے جماعت کی باقاعدہ تراویح کو جو آپ نے جاری کی تھی بدعت فرمایا کہ کہانِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖآپ کا وہ کلام اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہ شرعًا بدعت ہے لغۃً سنت اور مسلمانوں کے واسطے لازم العمل۔خیال رہے کہ تمام صحابہ ہدایت کے تارے ہیں،خصوصًاخلفائے راشدین۔لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ "اَصْحَابِی کَالنُّجُوْمِ"تمام صحابہ کی پیروی باعث نجات ہے۔
۶؎یہاں نئی چیز سے مراد نئے عقیدے ہیں جو اسلام میں حضور کے بعد ایجاد کیئے جائیں،اس لیئے کہ یہاں اسے گمراہی کہا گیا۔گمراہی عقیدہ میں ہوتی ہے نہ کہ اعمال میں لہذا یہ حدیث اپنے عموم پر ہے۔چنانچہ قادیانی،چکرالوی،رفض و خروج یہ تمام بدعات اور گمراہی ہیں اور اگر اس سے نئے اعمال مراد لیئے جائیں تو یہ حدیث عام مخصوص البعض ہے،یعنی ہر بری بدعت گمراہی ہے۔بدعت حسنہ کبھی مباح،کبھی مستحب،کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہوتی ہے۔حدیث کی کتب اور قرآن کے پارے بدعت ہیں مگر اچھے ہیں۔اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 165