Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 164

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ مُتَّكِأً عَلٰى أَرِيكَتِهٖ يَظُنُّ أَنَّ اللهَ لَمْ يُحَرِّمْ شَيْئًا إِلَّا مَا فِي هٰذَا الْقُرْآنِ أَلَا وَإِنِّي وَاللهِ قَدْ أَمَرْتُ وَعَظْتُ وَنَهَيْتُ عَنَ أَشْيَاءَ إِنَّهَا كَمِثْلِ الْقُرْآنِ أَوْ أَكْثَرُ وَإِنَّ اللهَ لَمْ يُحِلَّ لَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَائِهِمْ وَلَا أَكْلَ ثِمَارِهِمْ إِذَا أَعْطَوْكُمُ الَّذِيْ عَلَيْهِمْ» رَوَاهُ أَبُو دَاوٗدَ وَفِي إِسْنَادِهٖ: أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ الْمَصِّيْصِيِّ قَدْ َتَكَلَّمَ ِفِيْهِ

وعن العرباض بن سارية قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «أيحسب أحدكم متكأ على أريكته يظن أن الله لم يحرم شيئا إلا ما في هذا القرآن ألا وإني والله قد أمرت وعظت ونهيت عن أشياء إنها كمثل القرآن أو أكثر وإن الله لم يحل لكم أن تدخلوا بيوت أهل الكتاب إلا بإذن ولا ضرب نسائهم ولا أكل ثمارهم إذا أعطوكم الذي عليهم» رواه أبو داود وفي إسناده: أشعث بن شعبة المصيصي قد تكلم فيه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرما کر فرمایا کیا تم میں سے کوئی چھپڑ کھٹ پر تکیہ لگا کر یہ گمان کرسکتا ہے ۲؎کہاللہنے بجز ان چیزوں کے کوئی چیز حرام نہ کی جو قرآن میں ہیں آگاہ رہو کہ بخدا میں نے احکام دیئے وعظ فرمائے اور بہت چیزوں سے منع کیا جو قرآن کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہیں ۳؎یقینًااللہنےتمہارے لیے یہ مباح نہ کیا کہ کتابیوں کے گھروں میں بلا اجازت گھس جاؤ اور نہ ان کی عورتوں کو مار پیٹ اور نہ ان کے پھل کھانا جب وہ اپنے ذمہ کے حقوق تمہیں ادا کریں۴؎اسے ابوداؤدنے روایت کیا اس حدیث کی اسناد میں اشعث ابن شعبہ مصیصی ہے جس میں کلام کیا گیا ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،آپ کے والد ساریہ کی کنیتابو نجیحتھی،حضرت عرباض اصحاب صفہ میں سے ہیں،شوقِ الٰہی اورخوفِ الٰہی اپنے دل میں بہت رکھتے تھے،شام میں قیام کیا اور ۷۵ھمیں وہیں وفات پائی،آپ سے ۳۱ احادیث مروی ہیں،حمّص میں آپ کا مزار ہے۔
۲
؎اس میں خطاب صرف صحابہ سے نہیں بلکہ قیامت تک کے مسلمانوں سے ہے،کیونکہ عہد صحابہ سے قریبًا ۱۳سو برس تک منکر حدیث کوئی نہیں ہوا یہ بیماری چودھویں صدی میں پھیلی،اور یہ سوال تعجب کے لیئے ہے یعنی تعجب ہے کہ تم میں بعض ایسے بے وقوف بھی پیدا ہوں گے جو ایسے واہیات عقائد رکھیں گے۔
۳
؎یعنی میرے دیئے ہوئے احکام اور میری حلال و حرام کی ہوئی چیزیں،مقدار میں قرآنی احکام اور قرآنی حلال و حرام سے کہیں زیادہ ہیں،دیکھ لو قرآن کریم نے صرف سُور کا گوشت حرام کیا کہ فرمایا"وَلَحْمَ الْخِنۡزِیۡرِ"سُورکی کلیجی،گردے،ہڈی،بھیجہ اس کے علاوہ کتا،بلا حدیث نے ہی حرام کیا اسی طرح تمام احکام کا حال ہے حدیث کا انکار کرکے ان چیزوں کی حرمت کہاں سے ثابت کی جائے گی۔
۴
؎یعنی جب ذمی اہل کتاب جزیہ(ٹیکس)ادا کردیں تو نہ تم ان کے گھروں میں جاسکتے ہو،نہ ان کا مال کھاسکتے ہو،نہ انہیں سزا دے سکتے ہو۔یہ مسئلہ بھی قرآن میں نہیں ہے،مَیں ارشاد فرما رہا ہوں اہل کتاب کی قید اس لیئے لگائی کہ مشرکین عرب سے جزیہ قبول نہیں کیا جاتا،انہیں مسلمان ہی ہونا پڑے گا۔خیال رہے کہ اگر ذمی جزیہ دینے سے انکار کردیں تو وہ حربی ہوجائیں گے،پھر ان کی جائداد،سامان حکومت اسلامیہ ضبط اور انہیں قید کرسکتی ہے اس لیئے جزیہ دینے کی قید لگائی گئی۔
ے کہ اگر ذمی جزیہ دینے سے انکار کردیں تو وہ حربی ہوجائیں گے،پھر ان کی جائداد،سامان حکومت اسلامیہ ضبط اور انہیں قید کرسکتی ہے اس لیئے جزیہ دینے کی قید لگائی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 164