Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 186

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْْْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « " تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ الله وَسُنَّةَ رَسُولِهٖ». رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ

وعن مالك بن أنس مرسلا قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « " تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله وسنة رسوله». رواه في الموطأ

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک ابن انس سے مرسل ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے تم میں دو چیزیں وہ چھوڑی ہیں جب تک انہیں مضبوط تھامے رہو گے گمراہ نہ ہوگے اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبرکی سنت ۲؎یہ روایت موطا میں ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎محدثین کے نزدیک مرسل وہ حدیث ہے جس میں صحابی کا ذکر نہ ہو،تابعی یہ کہہ دیں کہ حضور نے فرمایا۔مگر فقہا کے نزدیک وہ حدیث بھی مرسل ہے جس میں تابعی اور صحابی دونوں چھوٹ گئے ہوں تبع تابعی فرمادیں کہ حضور نے یہ فرمایا۔یہاں فقہی مرسل مراد ہے کیونکہ امام مالک تابعی نہیں تبع تابعی ہیں وہ فرماتے ہیں حضور نے ارشاد فرمایا۔
۲
؎کتاب اللہسے قرآن کریم کی غیر منسوخ آیات مراد ہیں۔سنت سے وہ حدیثیں مراد ہیں جو امت کے لیئے قابل عمل ہیں،منسوخ آیتیں اور حدیثیں اور ایسے ہی حضور کے خصوصیات پر عمل ناممکن ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین کے اصل اصول قرآن و سنت ہیں چونکہ حضور کے زمانہ میں اجماع ناممکن تھا اور قیاس مجتہدین کتاب و سنت سے ملحق ہے کہ اگر آیت پر قیاس ہے تو وہ قیاس قرآن سے ملحق اور اگر سنت پر ہے تو سنت سے ملحق،اس لیئے ان دونوں کا یہاں ذکر نہ ہوا،نیز اماموں کی تقلید کتاب وسنت سمجھنے کے لیئے ہے انہیں چھوڑنے کے لیئے نہیں،لہذا یہ حدیث غیرمقلدوں کی دلیل نہیں بن سکتی جب وہ حضرات حدیث سمجھنے کے لیئے علم صرف و نحو،لغت و ادب سے مدد لیتے ہیں تو اگر ہم بھی اس کے لیئے فقہ سے مدد لیں تو کیا حرج ہے۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب "جاء الحق"حصہ اول میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 186