Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 166

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: خَطَّ لَنَارَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا، ثُمَّ قَالَ: "هَذَا سَبِيلُ اللهِ"، ثُمَّ خَطَّ خُطُوْطًا عَنْ يَمِيْنِهٖ وَعَنْ شِمَالِهٖ، وَقَالَ: "هٰذِهٖ سُبُلٌ عَلٰى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُوْا إِلَيْهِ وَقَرَأَ: وَأَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ اَلْآيَةَ رَوَاهُ أحمَدُ وَالنَّسَائِيُّ والدَّارِمِيُّ

وعن عبد الله بن مسعود قال: خط لنارسول الله -صلى الله عليه وسلم خطا، ثم قال: "هذا سبيل الله"، ثم خط خطوطا عن يمينه وعن شماله، وقال: "هذه سبل على كل سبيل منها شيطان يدعوا إليه وقرأ: وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه الآية رواه أحمد والنسائي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے عبد اللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا پھر فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے ۱؎پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستہ پر شیطان ہے جو ادھر بلا رہا ہے ۲؎اوریہ آیت تلاوت فرمائی:"وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ"الایہاسے احمد،نسائی اور دارمی نے روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله !کیا نفیس تعلیم ہے،دین حق کو قرآن شریف میںصراط مستقیمفرمایا گیا یعنی سیدھا راستہ جو نہایت آسانی سے رب تک پہنچاد ے،حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خط کھینچ کر اس کی مثال دکھادی۔یہاںسبیل اللهسے مرادسچے اعتقاد اور نیک اعمال ہیں۔خیال رہے کہ شریعت اورطریقت کے چاروں سلسلے حنفی شافعی یا قادری،چشتی وغیرہ ایک ہی طریقہ ہیں جنہیں اہل سنت کہا جاتا ہے کیونکہ انکے عقائد یکساں ہیں۔اعمال میں فروعی اختلاف جیسا صحابہ کا آپس میں اختلاف ہوا کرتا تھا۔یہ کعبۂ ایمان کے چار راستے ہیں،یاسمندر نبوت تک پہنچنے والے چار دریا ان کے علاوہ دیگر مذاہب ٹیڑھے راستہ ہیں کہ وہ عقائد میں مختلف ہیں۔
۲
؎یہاں شیطان سے مراد یا تو ان مذاہب کے موجد ہیں جیسے قادیانیت کے لیئے غلام احمد اور چکرالویت کے لیئے عبد اللہ ،یا ان دینوں کے مبلغین یا اس سے مراد خود ابلیس ہی ہے۔قرآن نے سرکش جنات اور گمراہ کن انسانوں کو شیاطین فرمایا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 166