Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 154

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوْا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ لَا يُضِلُّونَكُمْ وَ يَفْتِنُونَكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يكون في آخر الزمان دجالون كذابون، يأتونكم من الأحاديث بما لم تسمعوا أنتم ولا آباؤكم، فإياكم وإياهم لا يضلونكم و يفتنونكم". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آخری زمانہ میں جھوٹے دجال ہوں گے ۱؎جو تمہارے میں وہ احادیث لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ دادوں نے ۲؎ان کو اپنے سے اپنے کو ان سے دور رکھو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎دجّالدجلسے بنا،بمعنی فریب اور دھوکا،دجال بڑا فریبی مکار و دھوکہ باز آخر زمانہ میں بڑا دجّال نکلے گا اس سے پہلے چھوٹے دجّال بہت ہوں گے۔
۲
؎اس میں اشارہ حدیث گھڑنے والوں کی طرف ہورہا ہے۔یہاں خطاب یاصرف صحابہ سے ہے یاقیامت تک کے علماء سے جنہیں حدیث کی واقفیت ہو اگر کوئی جاہل کسی مشہور حدیث کو نہ سنے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں اعلان فرمایا تھا کہ ہم وہی حدیث قبول کریں گے جو زمانۂ فاروقی میں شائع ہوچکی کیونکہ آپ کے زمانہ میں بعض چھپے منافقوں نے حضرت علی کے فضائل میں اور بعض نے ان کے خلاف بہت حدیثیں گھڑ لی تھیں جب ہی سے رفض و خروج کی بیماریاں مسلمانوں میں پھیلیں۔معلوم ہوا کہ حدیث گھڑنا سخت جرم ہے اور گھڑنے والا سخت مجرم کہ حضور نے اسے دجّال و کذاب فرمایا۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ بدمذہبوں سے بچنا ضروری ہے کیونکہ ان کی صحبت دین و ایمان کے لیئے خطرہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 154