Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 153

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى النَّاسِ، فَحُرِّمَ مِنْ أجَلِ مَسْأَلَتِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

وعن سعد بن أبي وقاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن أعظم المسلمين في المسلمين جرما من سأل عن شيء لم يحرم على الناس، فحرم من أجل مسألته". متفق عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعدابن ابی وقاص سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمانوں میں بڑا مجرم وہ ہے جو کسی غیر حرام چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کرے ۲؎اس کی پوچھ گچھ کی وجہ سے وہ چیز حرام کردی جاوے ۳؎(بخاری و مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا اسم شریف سعد ابن ابی وقاص اور کنیت ابو اسحاق ہے،آپ کے والد کا نام مالک ابن وھیب ہے،اور کنیت ابو وقاص آپ زُہری ہیں،قرشی ہیں،عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں،قدیم الاسلام ہیں۔چنانچہ آپ تیسرے مسلمان ہیں،بوقت اسلام آپ کی عمرشریف سترہ برس تھی،بہت شاندارصحابی ہیں کہ حضور نے ان کے لیئے فرمایا تم پر میرے ماں باپ فدا،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،بہت بڑے مقبول الدعاء تھے،لوگ آپ کی بددعا سے بہت ڈرتے تھے،عہدفاروقی اورعثمانی میں کوفہ کے گورنر رہے،ستربرس سے زیادہ عمر پائی، ۵۵ھمیں مدینہ منورہ سے قریب مقام عقیق میں وصال ہوا،وہاں سے آپ کی میت شریف مدینہ منورہ لائی گئی،مروان ابن حکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ پاک کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کیے گئے۔
۲
؎یہاں روئے سخن انقیل قالوالوں کی طرف ہے جنہیں بلاضرورت ہر بات کرید کرنے کی عادت ہوتی ہے ورنہ مسائل سیکھنے کے سوال اچھی چیز ہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ"لہذا یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں اور پوچھ گچھ سے مراد نبی سے پوچھنا ہے کیونکہ حرام و حلال کے احکام اسی بارگاہ سے جاری ہوتے ہیں،جیسے حضور نے فرمایا کہ تم پر حج فرض ہے ایک صحابی نے پوچھا کیا ہر سال؟ فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال ہی فرض ہوجاتا۔یہ ہیں مضر سوالات۔
۳
؎اس سے تین مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ اصل اشیاءمیں اباحت ہے یعنی جس سے شریعت میں خاموشی ہووہ حلال ہے۔حرام وہی ہے جسے شریعت منع کرےجیساکہلَمْ یُحَرَّمْسے معلوم ہوا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا"۔ معلوم ہوا جس کی حرمت نہ ملے وہ حلال ہے مگر اس زمانہ میں بعض جہلاء بلا دلیل ہرچیز کو حرام کہہ دیتے ہیں اور حلال ہونے کے لیئے ثبوت مانگتے ہیں بتاؤ کہاں لکھا ہے،میلادشریف اور گیارھویں شریف حلال ہے خود نہیں بتاتے کہ حرام کہاں لکھا ہے انہیں اس حدیث اور آیت سے عبرت پکڑنی چاہیئے۔دوسرے یہ کہ کبھی زیادہ پوچھ گچھ پر رب کی طرف سے سختی ہوجاتی ہے۔دیکھو بنی اسرائیل گائے کےمتعلق پوچھ گچھ کرتے رہے پابندیاں بڑھتی رہیں۔تیسرے یہ کہ وظیفوں اوراحکام میں خود پابندی نہ لگوائے،بلکہ ان کے اطلاق سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 153