Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 162

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أبِيْ رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلٰى أَرِيكَتِهٖ يَأْتِيهِ أَمْرٌ مِنْ أَمْرِيْ مِمَّا أَمَرْتُ بِهٖ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِيْ مَا وَجَدْنَا فِيْ كِتَابِ اللهِ اتَّبَعْنَاهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ

وعن أبي رافع قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا ألفين أحدكم متكئا على أريكته يأتيه أمر من أمري مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول: لا أدري ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه". رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه والبيهقي في "دلائل النبوة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کسی کو مسہری پر تکیہ لگائے نہ پاؤں۲؎کہ اس کے پاس میرے احکام میں سے جس کا میں نے حکم دیا جس سے میں نے منع کیا کوئی حکم پہنچے اور وہ کہہ دے کہ ہم نہیں جانتے جو قرآن شریف میں پائیں گے ہم تو اس کی پیروی کریں گے۳؎اس حدیث کو احمد و ابوداؤد ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کیا اور بیہقی نے دلائل نبوت میں۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام ابراہیم یا اسلم ہے،آپ حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں،آپ نسلًاقبطی ہیں،حضرت عباس کی ملک میں تھے،انہوں نے بطور نذرانہ حضور کی ملک میں دے دیا۔جب حضرت عباس اسلام لائے تو انہوں نے ہی حضور کو آپ کے اسلام کی خبر دی،حضور نے اس خوشی میں ان کو آزاد کردیا۔آپ سوائے جنگ بدر کے باقی تمام غزووں میں حضور کے ساتھ رہے،خلافت مرتضوی میں وفات پائی رضیاللہتعالٰی عنہ۔(مرقاۃ واشعۃ اللمعات)
۲
؎سبحان الله!یہ ہے میرے محبوب کی قوت نظر،انکار حدیث کےموقعوں پر یہ دو کلمے ہمیشہ فرمائے جاتے ہیں کیونکہ قرآنی فرقہ کا موجد عبداللہچکرالوی ہے،جو چکرالہ ضلع میانوالی پنجاب میں پیدا ہوا،یہ بہت مالدار اورلنگڑا تھا۔مُتَکِّیًافرماکر اس کےلنگڑا ہونے کی طرف اور"اَرِیْکَۃْ"فرماکر اس کی مالداری کی طرف اشارہ کردیا گیا،یا یہ مطلب ہے کہ اس فرقہ کا موجد آرام طلب ہوگا،گھر میں رہے گا،علم دین حاصل کرنے کے لیئے سفر نہ کرے گا،صرف قرآن کے ترجمے دیکھ کر یہ کہے گا۔چنانچہ عبداللہ!چکرالوی اور اس کی ساری ذرّیّت کا یہی حال ہے غرض کہ یہاں یا ظاہری عیوب کا ذکر ہے یا باطنی کا۔
۳
؎نہیں جانتے کا مقصد ہے نہیں مانتے یعنی ہم قرآن کے سوا حدیث وغیرہ کے قائل نہیں،قرآن میں سب کچھ ہے پھرحدیث کی کیا ضرورت ہے۔عبداللہچکرالوی اور اس کی ذرّیّت کے یہی الفاظ ہوتے ہیں۔سبحان الله !"مَا وَجَدْنَا" فرماکرکیسا نفیس اشارہ فرمایا کہ اگرچہ قرآن تو کامل ہے مگر انسان کا پانا ناقص،قرآن میں سب کچھ ہے مگر ملے گا اسے جسے میں نکال کردوں،ہرشخص سمندر سے موتی حاصل نہیں کرسکتا موتی نکلتے سمندر سے ہیں مگر ملتے جوہری کی دکان پر ہیں اساَفْصَحُ الْفُصَحَاءِصلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو لفظوں میں ان کے دلائل مع تردید بتادیئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 162