Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 178

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَكَلَ طَيِّبًا، وَعَمِلَ فِيْ سُنَّةٍ، وَأَمِنَ النَّاسُ بَوَائِقَه، دَخَلَ الْجَنَّةَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هٰذَا الْيَوْمَ لَكَثِيرٌ فِي النَّاسِ؟ قَالَ: "وَسَيَكُونُ فِي قُرُوْنٍ بَعْدِيْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "من أكل طيبا، وعمل في سنة، وأمن الناس بوائقه، دخل الجنة"، فقال رجل: يا رسول الله! صلى الله عليه وسلم إن هذا اليوم لكثير في الناس؟ قال: "وسيكون في قرون بعدي". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

۱∞؎روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو پاک و حلال کھائے سنت پر عمل کرے اورلوگ اس کے فتنوں سےمحفوظ رہیں وہ جنت میں جائے گا ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج کل بہت سے ایسے لوگ ہیں فرمایا میرے بعد والے زمانوں میں بھی ہوں گے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث درستی عبادات اور معاملات کی جامع ہے۔دولفظوں میں دونوں جہاں سنبھال دیئے گئے۔"فِی سُنَّۃٍ"میں اشارۃً بتایا گیا کہ کسی سنت کومعمولی نہ سمجھے حتی کہ بیٹھ کر پانی پینا،راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا۔کبھی ایک گھونٹ پانی جان بچالیتا ہے۔اَمِنَفرماکر بتایا کہ مسلمان کے اخلاق ایسے پاکیزہ ہوں کہ لوگوں کو قدرتی طور پر اس کی طرف سے امن ہو کہ یہ تکلیف نہیں پہنچاتا۔
۲
؎یعنی میرا فیضان صرف اس زمانہ سے خاص نہیں بلکہ تاقیامت میری امت میں ایسے پرہیزگار ہوتے رہیں گے۔ان شاء اللّٰهُیہ امت نیکوں سے خالی نہ ہوگی ہاں جس قدر زمانہ دور ہوگا ایسے ہی لوگ کم ہوں گے۔الحمدﷲ!حضور کی یہ پیشن گوئی بالکل درست ہوئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 178