Main Icon

باب:قرآن وسنّت مضبوطی سے پکڑنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 174

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيْثِ أَنَسٍ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اتبعوا السواد الأعظم فإنه من شذ شذ في النار» . رواه ابن ماجه من حديث أنس

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بڑے گروہ کی پیروی کرو ۱؎کیونکہ جو الگ رہا وہ الگ ہی آگ میں جائے گا ۲؎اسے انس کی حدیث سے ابن ماجہ نے روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہمیشہ وہ عقیدے اختیارکرو جو مسلمانوں کی بڑی جماعت کے ہوں یہ حدیث منصوص اور غیرمنصوص سارے احکام کو شامل ہے۔آیات و احادیث کے جو معنی مسلمانوں کی بڑی جماعت نے سمجھے ہیں وہی حق ہیں۔آج اگر کوئی نئے معنے بتائے تو جھوٹا ہے۔خاتم النبیینکے معنے آخر ی نبی صلوٰۃ و زکوۃ کے معنی مروجہ نماز اور صدقہ ہیں جو کہے کہخاتم النبیینکے معنی اصلی نبی،صلوٰۃ و زکوۃ سے کچھ اورمرادلے یہ غلط ہے،ایسے ہی مسلمانوں کا بڑاگروہ میلاد،فاتحہ،عرس وغیرہ کو اچھا سمجھتا ہے واقعی یہ کام اچھے ہیں،اگر کچھ لوگ انہیں حرام کہیں جھوٹے ہیں۔حدیث شریف میں ہے جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔رب فرماتا ہے: "لِتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ"حضور فرماتے ہیں تم زمین میں اللہ کے گواہ رہو۔یہ سب حدیثیں اسی مشکوٰۃ شریف میں آئیں گی۔لہذا جس کام کو عام علماء،صلحاء اورعوام مسلمین اچھا جانیں وہ اچھا ہی ہے۔خیال رہے کہ بڑی جماعت سارے مسلمانوں کی معتبر ہے نہ کہ کسی خاص جگہ اور خاص وقت کی۔لہذا اگر کسی بستی میں ایک سنی ہے سب بدمذہب تو وہ ایک ہی سواد اعظم ہوگا کیونکہ وہ صحابہ سے اب تک کی جماعت کے ساتھ ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ اجتہادی مسائل میں سواد اعظم کا اعتبار نہیں ایک مجتہد جمہور مجتہدین کی مخالفت کرسکتا ہے اور اس کی اتباع جائز ہے۔اس کی پوری بحث مرقاۃ وغیرہ میں دیکھو۔یاد رکھو کہ بعض بدعملیوں میں عام مسلمان پھنس جاتے ہیں جیسے زمانہ موجود میں داڑھی منڈانا لیکن وہ سبھی اسے برائی سمجھتے ہیں اور وہ گناہ سمجھ کر اس کو کرتے ہیں۔لہذا یہ نہیں کہاجاسکتا کہ داڑھی منڈانا بڑی جماعت کا عمل ہے۔
۲
؎یعنی جس نے مسلمانوں کی بڑی جماعت کے خلاف عقیدے اختیار کئے تو جماعت تو جنت میں جائے گی اور یہ دوزخ میں۔یہ حدیث تا قیامت بدمذہبیت سے بچنے کا بڑا ذریعہ ہے۔اگر مسلمان اس پر کاربند رہیں تو چھوٹے چھوٹے فرقے خود ہی ختم ہوجائیں ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 174