- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6055
باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6055
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمةَ قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ فَقَالَ لَهٗ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهٗ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا كُلُّ ذٰلِكَ لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهٗ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهٗ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِينَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ. قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاك مَنٌّ مِنَ اللّٰهِ مَنَّ بِهٖ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذٰلِكَ مَنٌّ مِنَ اللّٰهِ مَنَّ بِهٖ عَلَيَّ . وَأَمَّا مَا تَرٰى مِنْ جَزَعِي فَهُوَ مِنْ أَجْلِكَ وَمِنْ أَجْلِ أَصْحَابِكَ وَاللّٰهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الأَرْضِ ذَهَبًا لَافْتَدَيْتُ بِهٖ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ قَبْلَ أَن أرَاهُ.. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن المسور بن مخرمة قال: لما طعن عمر جعل يألم فقال له ابن عباس وكأنه يجزعه: يا أمير المؤمنين ولا كل ذلك لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأحسنت صحبته ثم فارقك وهو عنك راض ثم صحبت أبا بكر فأحسنت صحبته ثم فارقك وهو عنك راض ثم صحبت المسلمين فأحسنت صحبتهم ولئن فارقتهم لتفارقنهم وهم عنك راضون. قال: أما ما ذكرت من صحبة رسول الله صلى الله عليه وسلم ورضاه فإنما ذاك من من الله من به علي وأما ما ذكرت من صحبة أبي بكر ورضاه فإنما ذلك من من الله من به علي . وأما ما ترى من جزعي فهو من أجلك ومن أجل أصحابك والله لو أن لي طلاع الأرض ذهبا لافتديت به من عذاب الله قبل أن أراه.. رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے مسور ابن مخرمہ سے۱؎فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو نیزہ مارا گیا۲؎تو آپ غم کرنے لگے ان سے ابن عباس نے تسکین دیتے ہوئے عرض کیا۳؎اےامیرالمؤمنین آپ ان تمام کی پرواہ نہ کریں۴؎آپ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ رہے تو ان کی رفاقت خوب نبھائی پھر وہ آپ سے جدا ہوئے وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ رہے تھے تو ان کی رفاقت خوب نبھائی وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ رہے ان کا ساتھ خوب نبھایا ۵؎اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو اس طرح جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے۶؎آپ نے فرمایا یہ جو تم نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی صحبت پاک کا اور آپ کی خوشنودی کا ذکر کیا یہ الله کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ۷؎لیکن جو تم نے حضرت ابوبکر کی صحبت اور ان کی خوشنودی کا ذکر کیا یہ بھی مجھ پر الله کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا۸؎لیکن میری گھبراہٹ تم دیکھ رہے ہو وہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے ہے ۹؎الله کی قسم اگر میرے پاس زمین بھر کرسونا ہو تو میں عذاب الٰہی سے فدیہ دے دوں اسے دیکھنے سے پہلے۱۰؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے بھانجے ہیں بہت کم عمر صحابی ہیں،حضور انور کی ہجرت کے دو سال بعد مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے،ذی الحجہ ۸ ∞ آٹھ ہجری میں مدینہ منورہ لائے گئے،حضور انور کی زیارت کی،آپ کی آٹھ سال کی عمر تھی جب حضور انور کی وفات شریف واقع ہوئی،بڑے فقیہ عابد و زاہد تھے۔
۲؎حضرت عمر کو مغیرہ ابن شعبہ کے غلام ابو لولو نے مدینہ منورہ میں چھبیس ذی الحجہ ۲۳ تئیس ہجری کو بدھ کے دن نیزہ مارا آپ زخمی ہونے کی حالت میں بہت ہی رنج و غم فرمانے لگے۔
۳؎تجزعباب تفعیل کا مضارع ہے اوریہاں یہ باب سلب مادہ کے لیے ہے،جزعبمعنی گھبراہٹ اورتجزعہبمعنی گھبراہٹ دور کرنے یعنی تسلی دینا۔
۴؎کل ذالكسے پہلے ایک فعللابتالپوشیدہ ہے یعنی آپ ان تکالیف کی پرواہ نہ کریں کیونکہ آپ کو الله تعالٰی نے بڑے کرم سے نوازا ہے جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔
۵؎یعنی تین نعمتیں تو آپ کو پہلے مل چکی ہیں: حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی صحبت اور حضور صلی الله علیہ و سلم کا آپ سے راضی ہونا،پھر حضرت ابوبکر کی صحبت و رفاقت کہ آپ ان کے وزیر با تدبیر رہے اور ان جناب کا آپ سے خوش رہنا پھر خلافت اسلامیہ اور ان میں آپ کا عدل و انصاف فرمانا مسلمانوں کا آپ سے راضی رہنا۔
۶؎یعنی اگر اس قاتلانہ حملہ سے آپ کی وفات ہوگئی توسبحان الله!شہادت وہ بھی مدینہ منورہ کی زمین میں نماز کی حالت میں مسجد نبوی شریف میں اور حضور صلی الله علیہ و سلم کے مصلے شریف پر،یہ خوبیاں آپ کے سواءکسی کو میسر نہ ہوئیں نہ ہوں گی پھر مسلمانوں کا آپ سے راضی ہونا۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کا راضی رہنا بھی الله کی نعمت ہے اور مسلمانوں کا خوش رہنا بھی الله کی رحمت ہے یہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔
۷؎یعنی حضور انور کی صحبت حضور کا مجھ سے راضی رہنا یہ میری کسبی خوبی نہیں ہے یہ خاص عطاء ذوالجلال ہے؎ایں سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدا،بخشندہ
صحابی رسول الله بننا وہ سعادت ہے کہ اس کے مقابل کوئی سعادت نہیں بنی،تمام جہان کے ولی غوث قطب صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے۔
۸؎یعنی حضور انور کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کی صحبت اور ان کا مجھ سے راضی ہونا یہ بھی الله کی نعمت ہے۔معلوم ہوا کہ اولیاء الله کی صحبت الله کی رحمت ہے؎آدھی سے آدھی بھلی اور آدھی سے بھی آدھ بھیگا سنگت سادھ کی کاٹے کوٹ اپرات
یعنی الله کے مقبول بندوں کی صحبت ایک بلکہ آدھی گھڑی کی بھی مبارک ہے ان کی صحبت گناہوں کے پہاڑ توڑ دیتی ہے حضر ت فرید کی والدہ ان سے فرماتی تھیں؎اُٹھ جاگ فریداستیا اوہ خلقت ویکھن جا مت کوئی بخشیا مل پوے کہ تو بھی بخشیا جا
ان سب کی اصل یہ حدیث شریف ہے۔
۹؎یعنی میری یہ گھبراہٹ اپنی تکالیف کی وجہ سے نہیں بلکہ اس خیال سے ہے کہ میرے بعد مسلمانوں کا خصوصًا آپ اہل بیت لوگوں کا کیا بنے گا میں بڑے بڑے فتنوں کے سامنے مضبوط اور بند دروازہ ہوں میری شہادت کے بعد مسلمانوں میں بڑے بڑے فتنے ہوں گے جیسے کہ حدیث شریف میں ہے۔چنانچہ شہادت عثمان جو مسلمانوں میں تلوار چلنے کا مبداء بنی وہ آپ کے بعد ہی واقع ہوئی۔
۱۰؎یہ ہے خوف الٰہی کی انتہا جو کمال ایمان کی دلیل ہے۔حضرت عمر وہ ہستی ہیں کہ ان کے طفیل لوگ بخشے جائیں گے مگر خود اپنی ہیبت کا یہ حال ہے یہاں مرقات نے حضرت عمر فاروق کی چند کرامات کا ذکر فرمایا۔کرامات عمر فاروق !رضی اللہ عنہ(۱) جمعہ کے دن حضرت عمر خطبہ پڑھ رہے ہیں کہ پکارا اے ساریہ پہاڑ کو لو دو یا تین بار فرمایا،لوگوں نے بعد خطبہ پوچھا کہ اے امیر المؤمنین ساریہ تو نہاوند میں جہاد کررہے ہیں آپ نے انہیں یہاں سے کیسے پکارا،فرمایا میں نے ان سب کو جہاد کرتے دیکھا،دشمن پہاڑ کے پیچھے سے حملہ کرنا چاہتا تھا میں نے انہیں اطلاع دے دی،بہت عرصہ بعد ساریہ آئے انہوں نے کہا کہ ہم کو حضرت عمر کی آواز نے شکست سے بچایا۔(۲)جب حضرت عمرو ابن عاص نے مصر فتح فرمایا تو وہاں دیکھا کہ ہر سال دریائے نیل میں ایک کنواری لڑکی بھینٹ چڑھائی جاتی ہے آپ نے یہ رواج روک دیا دریائے نیل سوکھ گیا،آپ نے حضرت عمر کو مدینہ منورہ خط لکھا حضرت عمر نے دریائے نیل کے نام خط لکھا جس میں تحریر تھا کہ اے دریا اگر تو خدا کے حکم سے بہتا ہے تو الله کے حکم سے جاری ہوجا اور حکم دیا کہ میرا یہ خط دریا نیل میں ڈال دیا جاوے ڈالا گیا تو دریا قیامت تک کے لیے جاری ہوگیا۔(۳)ابو مسلم خولان کو اسود ابن قیس نے کہا کہ تو مجھے نبی مان لے انہوں نے انکار کیا اس نے آگ جلوا کر ابو مسلم کو اس میں ڈال دیا آگ ان پر ٹھنڈی ہوگئی،اس نے انہیں اپنے شہر سے نکلوا دیا اور مدینہ منورہ حضرت عمر کے پاس آئے آپ نے انہیں اپنے سینے سے لگا کر کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم کو آگ سے بچالیا اور سنت خلیل نصیب کی حالانکہ کسی نے حضرت عمر کو یہ خبر نہ دی تھی،کہا كیا تم عبدالله ابن ایوب نہیں ہو عرض کیا ہاں۔(۴)حضرت عمر ایک رات مدینہ کی گلیوں میں گشت لگا رہے تھے پہرہ دے رہے تھے کہ ایک گھر سے ایک بوڑھی عورت کی آواز آئی جو اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی کہ اٹھ دودھ میں پانی ملا دے لڑکی بولی اماں یہ حضرت عمر نے منع فرمایا ہے،بوڑھی بولی کہ عمر ہم کو نہیں دیکھ رہے ہیں لڑکی بولی کہ عمر کا رب دیکھ رہا ہے،آپ نے صبح کو اپنے بیٹے عاصم سے کہا کہ تم فلاں گھر جاؤ اس لڑکی سے نکاح کرلو تم کو اس کے پیٹ سے نہایت ہی مبارک روح ملے گی، عاصم ابن عمر نے اس سے نکاح کیا جس سے ایک لڑکی پیدا ہوئی نام عاصم بنت عاصم ابن عمر اس سے عبدالعزیز ابن مروان نے نکاح کیا اس کے شکم سے عمر ابن عبدالعزیز پیدا ہوئے۔(۵)حضرت عمر نے ایک بدوی کو پہاڑ سے اترے ہوئے دیکھا فرمایا کہ غالبًا اس کا بیٹا فوت ہوگیا ہے اس نے اس کے مرثیہ میں سات شعر بھی كہے ہیں اگر تم کہو تو میں اس کے اشعار سنادوں،اتنے میں وہ بدوی اترایا پوچھا تو کہاں سے آرہاہے بولا اس پہاڑ کی چوٹی پر امانت رکھ کر پوچھا کیا امانت بولا اپنا بیٹا دفن کرکے فرمایا اپنے مرثیہ کے سات شعر سنا جو تو نے کہے ہیں،وہ بولا اے امیر المومنین وہ شعر تو میں نے ابھی دل میں سوچے ہیں آپ کو کیسے پتہ لگا پھر اس نے سات شعر سنادیئے،وہ اشعار یہاں مرقات نے نقل کیے جن کا پہلا شعر یہ ہے۔یاغائبا من نبوب من سفر عاجلہ علي موتہ علی صغرہ(مرقات)
(۶)ایک عورت کا تیل زمین پر گر گیا وہ کھڑی رو رہی تھی زمین تیل چوس چکی تھی،وہاں سے حضرت عمر گزرے وجہ رونے کی پوچھی اور کوڑا لے کر زمین کو مارنے لگے کہ اے زمین کیا میرے دور خلافت میں تو نے اس کا تیل غصب کیا واپس اگل،زمین نے تیل واپس اگلا عورت نے برتن میں بٹور لیا۔(۷)حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلافت فاروقی میں خواب دیکھا کہ میری آنکھ دیر سے کھلی کہ فجر کا وقت تنگ ہوگیا مسجد نبوی میں پہنچا تو حضور انور کو محراب میں بیٹھا پایا فرمایا علی جلد نماز پڑھو وقت جارہا ہے،فجر پڑھی واپس ہوئے تو دیکھا اس محراب میں حضور انور کے آگے کھجوروں کا طباق رکھا ہے حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے ایک کھجور مجھے عطا کی یہ دیکھ کر آنکھ کھل گئی واقعی نماز کو دیر ہوگئی تھی، دوڑتے ہوئے مسجد نبوی شریف میں گئے دیکھا کہ حضرت عمر فاروق محراب میں بیٹھے ہیں دیکھ کر فرمایا علی جلدی نماز پڑھو وقت جارہا ہے فورًا پڑھی واپس آکر دیکھا کہ حضرت عمر کے سامنے کھجوروں کا طباق رکھا ہے آپ نے حضرت علی کو ایک کھجور دی آپ نے کھالی دوسری مانگی تو فرمایا کہ ابھی تم کو حضور صلی الله علیہ و سلم نے ایک ہی کھجور دی تھی مجھ سے دوسری کیوں مانگتے ہو،یہ آخری دو کرامات دوسری کتب سے حاصل کی گئیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6055