Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6055

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمةَ قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ فَقَالَ لَهٗ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهٗ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا كُلُّ ذٰلِكَ لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهٗ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهٗ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِينَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ. قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاك مَنٌّ مِنَ اللّٰهِ مَنَّ بِهٖ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذٰلِكَ مَنٌّ مِنَ اللّٰهِ مَنَّ بِهٖ عَلَيَّ . وَأَمَّا مَا تَرٰى مِنْ جَزَعِي فَهُوَ مِنْ أَجْلِكَ وَمِنْ أَجْلِ أَصْحَابِكَ وَاللّٰهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الأَرْضِ ذَهَبًا لَافْتَدَيْتُ بِهٖ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ قَبْلَ أَن أرَاهُ.. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن المسور بن مخرمة قال: لما طعن عمر جعل يألم فقال له ابن عباس وكأنه يجزعه: يا أمير المؤمنين ولا كل ذلك لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأحسنت صحبته ثم فارقك وهو عنك راض ثم صحبت أبا بكر فأحسنت صحبته ثم فارقك وهو عنك راض ثم صحبت المسلمين فأحسنت صحبتهم ولئن فارقتهم لتفارقنهم وهم عنك راضون. قال: أما ما ذكرت من صحبة رسول الله صلى الله عليه وسلم ورضاه فإنما ذاك من من الله من به علي وأما ما ذكرت من صحبة أبي بكر ورضاه فإنما ذلك من من الله من به علي . وأما ما ترى من جزعي فهو من أجلك ومن أجل أصحابك والله لو أن لي طلاع الأرض ذهبا لافتديت به من عذاب الله قبل أن أراه.. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے مسور ابن مخرمہ سے۱؎فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو نیزہ مارا گیا۲؎تو آپ غم کرنے لگے ان سے ابن عباس نے تسکین دیتے ہوئے عرض کیا۳؎اےامیرالمؤمنین آپ ان تمام کی پرواہ نہ کریں۴؎آپ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ رہے تو ان کی رفاقت خوب نبھائی پھر وہ آپ سے جدا ہوئے وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ رہے تھے تو ان کی رفاقت خوب نبھائی وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ رہے ان کا ساتھ خوب نبھایا ۵؎اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو اس طرح جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے۶؎آپ نے فرمایا یہ جو تم نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی صحبت پاک کا اور آپ کی خوشنودی کا ذکر کیا یہ الله کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ۷؎لیکن جو تم نے حضرت ابوبکر کی صحبت اور ان کی خوشنودی کا ذکر کیا یہ بھی مجھ پر الله کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا۸؎لیکن میری گھبراہٹ تم دیکھ رہے ہو وہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے ہے ۹؎الله کی قسم اگر میرے پاس زمین بھر کرسونا ہو تو میں عذاب الٰہی سے فدیہ دے دوں اسے دیکھنے سے پہلے۱۰؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے بھانجے ہیں بہت کم عمر صحابی ہیں،حضور انور کی ہجرت کے دو سال بعد مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے،ذی الحجہ ۸؁ ∞ آٹھ ہجری میں مدینہ منورہ لائے گئے،حضور انور کی زیارت کی،آپ کی آٹھ سال کی عمر تھی جب حضور انور کی وفات شریف واقع ہوئی،بڑے فقیہ عابد و زاہد تھے۔
۲
؎حضرت عمر کو مغیرہ ابن شعبہ کے غلام ابو لولو نے مدینہ منورہ میں چھبیس ذی الحجہ ۲۳ تئیس ہجری کو بدھ کے دن نیزہ مارا آپ زخمی ہونے کی حالت میں بہت ہی رنج و غم فرمانے لگے۔
۳
؎تجزعباب تفعیل کا مضارع ہے اوریہاں یہ باب سلب مادہ کے لیے ہے،جزعبمعنی گھبراہٹ اورتجزعہبمعنی گھبراہٹ دور کرنے یعنی تسلی دینا۔
۴
؎کل ذالكسے پہلے ایک فعللابتالپوشیدہ ہے یعنی آپ ان تکالیف کی پرواہ نہ کریں کیونکہ آپ کو الله تعالٰی نے بڑے کرم سے نوازا ہے جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔
۵
؎یعنی تین نعمتیں تو آپ کو پہلے مل چکی ہیں: حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی صحبت اور حضور صلی الله علیہ و سلم کا آپ سے راضی ہونا،پھر حضرت ابوبکر کی صحبت و رفاقت کہ آپ ان کے وزیر با تدبیر رہے اور ان جناب کا آپ سے خوش رہنا پھر خلافت اسلامیہ اور ان میں آپ کا عدل و انصاف فرمانا مسلمانوں کا آپ سے راضی رہنا۔
۶
؎یعنی اگر اس قاتلانہ حملہ سے آپ کی وفات ہوگئی توسبحان الله!شہادت وہ بھی مدینہ منورہ کی زمین میں نماز کی حالت میں مسجد نبوی شریف میں اور حضور صلی الله علیہ و سلم کے مصلے شریف پر،یہ خوبیاں آپ کے سواءکسی کو میسر نہ ہوئیں نہ ہوں گی پھر مسلمانوں کا آپ سے راضی ہونا۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کا راضی رہنا بھی الله کی نعمت ہے اور مسلمانوں کا خوش رہنا بھی الله کی رحمت ہے یہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔
۷
؎یعنی حضور انور کی صحبت حضور کا مجھ سے راضی رہنا یہ میری کسبی خوبی نہیں ہے یہ خاص عطاء ذوالجلال ہے؎ایں سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدا،بخشندہ
صحابی رسول الله بننا وہ سعادت ہے کہ اس کے مقابل کوئی سعادت نہیں بنی،تمام جہان کے ولی غوث قطب صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے۔
۸
؎یعنی حضور انور کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کی صحبت اور ان کا مجھ سے راضی ہونا یہ بھی الله کی نعمت ہے۔معلوم ہوا کہ اولیاء الله کی صحبت الله کی رحمت ہے؎آدھی سے آدھی بھلی اور آدھی سے بھی آدھ بھیگا سنگت سادھ کی کاٹے کوٹ اپرات
یعنی الله کے مقبول بندوں کی صحبت ایک بلکہ آدھی گھڑی کی بھی مبارک ہے ان کی صحبت گناہوں کے پہاڑ توڑ دیتی ہے حضر ت فرید کی والدہ ان سے فرماتی تھیں
؎اُٹھ جاگ فریداستیا اوہ خلقت ویکھن جا مت کوئی بخشیا مل پوے کہ تو بھی بخشیا جا
ان سب کی اصل یہ حدیث شریف ہے۔
۹
؎یعنی میری یہ گھبراہٹ اپنی تکالیف کی وجہ سے نہیں بلکہ اس خیال سے ہے کہ میرے بعد مسلمانوں کا خصوصًا آپ اہل بیت لوگوں کا کیا بنے گا میں بڑے بڑے فتنوں کے سامنے مضبوط اور بند دروازہ ہوں میری شہادت کے بعد مسلمانوں میں بڑے بڑے فتنے ہوں گے جیسے کہ حدیث شریف میں ہے۔چنانچہ شہادت عثمان جو مسلمانوں میں تلوار چلنے کا مبداء بنی وہ آپ کے بعد ہی واقع ہوئی۔
۱۰
؎یہ ہے خوف الٰہی کی انتہا جو کمال ایمان کی دلیل ہے۔حضرت عمر وہ ہستی ہیں کہ ان کے طفیل لوگ بخشے جائیں گے مگر خود اپنی ہیبت کا یہ حال ہے یہاں مرقات نے حضرت عمر فاروق کی چند کرامات کا ذکر فرمایا۔کرامات عمر فاروق !رضی اللہ عنہ(۱) جمعہ کے دن حضرت عمر خطبہ پڑھ رہے ہیں کہ پکارا اے ساریہ پہاڑ کو لو دو یا تین بار فرمایا،لوگوں نے بعد خطبہ پوچھا کہ اے امیر المؤمنین ساریہ تو نہاوند میں جہاد کررہے ہیں آپ نے انہیں یہاں سے کیسے پکارا،فرمایا میں نے ان سب کو جہاد کرتے دیکھا،دشمن پہاڑ کے پیچھے سے حملہ کرنا چاہتا تھا میں نے انہیں اطلاع دے دی،بہت عرصہ بعد ساریہ آئے انہوں نے کہا کہ ہم کو حضرت عمر کی آواز نے شکست سے بچایا۔(۲)جب حضرت عمرو ابن عاص نے مصر فتح فرمایا تو وہاں دیکھا کہ ہر سال دریائے نیل میں ایک کنواری لڑکی بھینٹ چڑھائی جاتی ہے آپ نے یہ رواج روک دیا دریائے نیل سوکھ گیا،آپ نے حضرت عمر کو مدینہ منورہ خط لکھا حضرت عمر نے دریائے نیل کے نام خط لکھا جس میں تحریر تھا کہ اے دریا اگر تو خدا کے حکم سے بہتا ہے تو الله کے حکم سے جاری ہوجا اور حکم دیا کہ میرا یہ خط دریا نیل میں ڈال دیا جاوے ڈالا گیا تو دریا قیامت تک کے لیے جاری ہوگیا۔(۳)ابو مسلم خولان کو اسود ابن قیس نے کہا کہ تو مجھے نبی مان لے انہوں نے انکار کیا اس نے آگ جلوا کر ابو مسلم کو اس میں ڈال دیا آگ ان پر ٹھنڈی ہوگئی،اس نے انہیں اپنے شہر سے نکلوا دیا اور مدینہ منورہ حضرت عمر کے پاس آئے آپ نے انہیں اپنے سینے سے لگا کر کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم کو آگ سے بچالیا اور سنت خلیل نصیب کی حالانکہ کسی نے حضرت عمر کو یہ خبر نہ دی تھی،کہا كیا تم عبدالله ابن ایوب نہیں ہو عرض کیا ہاں۔(۴)حضرت عمر ایک رات مدینہ کی گلیوں میں گشت لگا رہے تھے پہرہ دے رہے تھے کہ ایک گھر سے ایک بوڑھی عورت کی آواز آئی جو اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی کہ اٹھ دودھ میں پانی ملا دے لڑکی بولی اماں یہ حضرت عمر نے منع فرمایا ہے،بوڑھی بولی کہ عمر ہم کو نہیں دیکھ رہے ہیں لڑکی بولی کہ عمر کا رب دیکھ رہا ہے،آپ نے صبح کو اپنے بیٹے عاصم سے کہا کہ تم فلاں گھر جاؤ اس لڑکی سے نکاح کرلو تم کو اس کے پیٹ سے نہایت ہی مبارک روح ملے گی، عاصم ابن عمر نے اس سے نکاح کیا جس سے ایک لڑکی پیدا ہوئی نام عاصم بنت عاصم ابن عمر اس سے عبدالعزیز ابن مروان نے نکاح کیا اس کے شکم سے عمر ابن عبدالعزیز پیدا ہوئے۔(۵)حضرت عمر نے ایک بدوی کو پہاڑ سے اترے ہوئے دیکھا فرمایا کہ غالبًا اس کا بیٹا فوت ہوگیا ہے اس نے اس کے مرثیہ میں سات شعر بھی كہے ہیں اگر تم کہو تو میں اس کے اشعار سنادوں،اتنے میں وہ بدوی اترایا پوچھا تو کہاں سے آرہاہے بولا اس پہاڑ کی چوٹی پر امانت رکھ کر پوچھا کیا امانت بولا اپنا بیٹا دفن کرکے فرمایا اپنے مرثیہ کے سات شعر سنا جو تو نے کہے ہیں،وہ بولا اے امیر المومنین وہ شعر تو میں نے ابھی دل میں سوچے ہیں آپ کو کیسے پتہ لگا پھر اس نے سات شعر سنادیئے،وہ اشعار یہاں مرقات نے نقل کیے جن کا پہلا شعر یہ ہے۔یاغائبا من نبوب من سفر عاجلہ علي موتہ علی صغرہ(مرقات)
(۶)ایک عورت کا تیل زمین پر گر گیا وہ کھڑی رو رہی تھی زمین تیل چوس چکی تھی،وہاں سے حضرت عمر گزرے وجہ رونے کی پوچھی اور کوڑا لے کر زمین کو مارنے لگے کہ اے زمین کیا میرے دور خلافت میں تو نے اس کا تیل غصب کیا واپس اگل،زمین نے تیل واپس اگلا عورت نے برتن میں بٹور لیا۔(۷)حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلافت فاروقی میں خواب دیکھا کہ میری آنکھ دیر سے کھلی کہ فجر کا وقت تنگ ہوگیا مسجد نبوی میں پہنچا تو حضور انور کو محراب میں بیٹھا پایا فرمایا علی جلد نماز پڑھو وقت جارہا ہے،فجر پڑھی واپس ہوئے تو دیکھا اس محراب میں حضور انور کے آگے کھجوروں کا طباق رکھا ہے حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے ایک کھجور مجھے عطا کی یہ دیکھ کر آنکھ کھل گئی واقعی نماز کو دیر ہوگئی تھی، دوڑتے ہوئے مسجد نبوی شریف میں گئے دیکھا کہ حضرت عمر فاروق محراب میں بیٹھے ہیں دیکھ کر فرمایا علی جلدی نماز پڑھو وقت جارہا ہے فورًا پڑھی واپس آکر دیکھا کہ حضرت عمر کے سامنے کھجوروں کا طباق رکھا ہے آپ نے حضرت علی کو ایک کھجور دی آپ نے کھالی دوسری مانگی تو فرمایا کہ ابھی تم کو حضور صلی الله علیہ و سلم نے ایک ہی کھجور دی تھی مجھ سے دوسری کیوں مانگتے ہو،یہ آخری دو کرامات دوسری کتب سے حاصل کی گئیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6055