Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6039

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ حَتّٰى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهٗ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «الْعِلْمَ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «بينا أنا نائم أتيت بقدح لبن فشربت حتى إني لأرى الري يخرج في أظفاري ثم أعطيت فضلي عمر بن الخطاب» قالوا: فما أولته يا رسول الله؟ قال: «العلم» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جب ہم سو رہے تھے تو ہمارے پاس ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا میں نے پی لیا ۱؎حتی کہ میں نے دیکھا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے ۲؎پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر ابن خطاب کو دے دیا لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اس کی تعبیر کیا دی فرمایا علم۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎دودھ لانے والا فرشتہ تھا اور دودھ علم دین تھا اور پیالہ یا تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا مبارک منہ جس سے یہ علم جاری ہوتا ہے یا آپ کی وحی،دوسرا احتمال قوی ہے۔
۲
؎یعنی وہ دودھ میری رگ رگ میں سرایت کر گیا حتی کہ ناخنوں سے نکل کر بہنے لگا،اس میں اشارہ ہے دودھ کی زیادتی کی طرف۔
۳
؎علم سے مراد علم دین ہے۔خیال رہے کہ دودھ انسان کی پہلی جسمانی غذا ہے اور علم پہلی روحانی غذا جس سے روح کی پرورش ہوتی ہے اس لیے دودھ کی تعبیر علم سے دی۔عالم اجسام اور عالم ارواح کے درمیان ایک عالم ہے جسے عالم مثال کہا جاتا ہے یہ عالم ہے تو نورانی مگر مشابہہ ہے عالم جسمانی سے۔نیند میں ایک روح اس عالم کی سیر کرتی ہے،اس سیر میں جو دیکھتی ہے وہ رؤیا صادقہ یعنی سچی خواب کہلاتی ہے۔علم چار صورتوں میں نظر آتا ہے: پانی،دودھ،شراب،شہد۔یہ ہی علم ان چار صورتوں میں جنت میں ہوگا کہ وہاں ان ہی چیزوں کی نہریں ہوں گی۔پانی نظر آنا گویا علم لدنی ہے،دودھ شریعت کے اسرار کا علم،شراب طہور علم کامل،شہد گویا نبوت کا علم ہے۔بعض عارفین فرماتے ہیں کہ خلفاء راشدین ان چار علوم کا منبع ہیں،حضرت عمر اس علم کا سرچشمہ ہیں جو دودھ کی شکل میں ہے۔اس علم میں حضرت عمر سب سے اعلی،د وسرے علوم میں باقی تین خلفاء سب سے اکمل۔اس میں اختلاف ہے کہ علم یا استعداد علم کی انتہا ہے یا نہیں قوی یہ ہے کہ انتہا نہیں،رب فرماتاہے:"وَ قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا"۔ حضرت سلطان العارفین بایزید بسطامی فرماتے ہیں؎شربت الحب کاسا بعد کاس
فما نفد الشراب ولا رویت
یہ بحث مرقات شرح مشکوۃ میں ملاحظہ کرو۔حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اگر تمام قبائل عرب کے علوم ایک پلے میں رکھے جائیں اور حضرت عمر کا علم دوسرے پلے میں تو حضرت عمر کا علم سب سے بڑھ جاوے گا،صحابہ کرام کہا کرتے تھے کہ علم کے دس حصے کیے گئے نو حصے حضرت عمر کو دیئے گئے ایک حصہ دوسرے لوگوں کو،یہ تقسیم حضور انور کی طرف سے ہوئی۔ (از مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6039