Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6045

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللّٰهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ ثُمَّ صَلّٰى فِي الْمَسْجِدِ ظَاهِرًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اللهم أعز الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطاب» فأصبح عمر فغدا على النبي صلى الله عليه وسلم فأسلم ثم صلى في المسجد ظاهرا. رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا الٰہی اسلام کو عزت دے یا ابوجہل ابن ہشام سے یا عمر ابن خطاب کے ذریعہ ۱؎تو جناب عمر نے سویرا کیا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں صبح ہی حاضر ہوئے اسلام قبول کرلیا۲؎پھر مسجد میں ظاہر ظہور نماز پڑھی گئی۳؎(احمد و ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی الٰہی ان دونوں میں سے ایک کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دے تاکہ ان کے ذریعہ سے اسلام خوب پھیلے۔معلوم ہوا کہ عالم اسباب میں اسباب سے کام لینا جائز ہے۔حضرت عمر کا اسلام سبب بنا اشاعت اسلام کا،حضور انور نے اس کی دعا مانگی۔رب تعالٰی بھی حضرت عمر کے متعلق ارشاد فرماتاہے:"یٰۤاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ"اے نبی آپ کو اللہ تعالٰی اور یہ مؤمن کافی ہے جس نے اب آپ کی اتباع کی ہے یعنی حضرت عمر۔آپ کے اسلام لانے پر فرشتوں نے ایک دوسرے کو مبارک بادیاں دیں۔غرضکہ سب طالب اسلام ہیں اور حضرت عمر مطلوب اسلام۔
۲
؎آپ کے اسلام لانے کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ ابوجہل نے اعلان کیا کہ جو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کرے اسے ایک سو اونٹنیاں اور ایک سو اوقیہ چاندی انعام دوں گا،حضرت عمر نے اس سے کہا کہ کیا تو یہ وعدہ پورا کرے گا اس نے کہا ہاں نقد دوں گا ادھار نہ ہوگا،آپ تلوار لےکر دار ارقم کی طرف چل دیئے جہاں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع مسلمانوں کے قیام فرما تھے،راستہ میں کسی نے کہا کہ عمر تم نے اگر ان کو قتل کردیا تو بنی ہاشم کے مقابلہ سے کیسے بچو گے،آپ نے فرمایا شاید تو بھی مسلمان ہوچکا ہے جو مجھے ڈراتا ہے اس نے کہا کہ اس سے عجیب یہ ہے کہ تمہاری بہن اور تمہارے بہنوئی بھی مسلمان ہوچکے ہیں،آپ کو غیرت آئی اپنی بہن کے گھر پہنچے تو گھر سے قرآن مجید کی تلاوت کی آواز آرہی تھی،حضرت سعید ابن زید جو ان دونوں کو قرآن پڑھا رہے تھے وہ چھپ گئے،آپ نے اپنے بہنوئی سے کہا میں نے سنا ہے تم مسلمان ہوچکے ہو یہ کہہ کر انہیں لپٹ گئے مارنے لگے،بہن چھڑانے لگیں تو انہیں بھی مارا،بہن بولیں اے عمر تم چاہے ہم کو ہلاک کردو ہم تو مسلمان ہوچکے ہیں،اس کلام نے اپنا کام کردیا دل پر چھری سی چل گئی،فرمایا وہ کلام مجھے بھی سناؤ جو تم پڑھ رہی تھیں،فرمایا پہلے غسل کرو آپ نے غسل کیا پھر کلام سنا سورہ طٰہٰ شریف تھی جب یہ آیت"اَللهُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا هُوَ لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی"سنی تو نعرہ مار کر بولے کہ جس کی یہ صفت ہے وہ ہی لائق عبادت ہے۔اتفاقًا حضرت خباب ابن ارت وہاں پہنچے فرمایا اے عمر آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمہارے ایمان کی دعا مانگی ہے تم کو ایمان اس دعا کی برکت سے ملا پھر آپ حضرت خباب کے ساتھ حضور کے پاس بیت ارقم میں پہنچے؎گر کے قدموں پر وہ قربان ہوگئے
پڑھ لیا کلمہ مسلمان ہوگئے (مرقات)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضور نے یہ دعا نہ کی تھی کہ خدایا اسلام کو عمر کے ذریعہ عزت دے بلکہ دعا یہ کی تھی
اللھم اعز عمر بالاسلامخدایا عمر کو بذریعہ اسلام عزت دے مگر یہ غلط ہے حضور نے یہ ہی دعا کی تھی کہ خدایا عمر کے ذریعہ اسلام کو عزت دے،یہ ایسا ہی ہے جیسے رب کا فرمانا"فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ"یا حضور فرماتے ہیںزینوا القرآن باصواتکم۔حضرت عمر نبوت کے پانچویں سال ایمان لائے،آپ سے چالیس مسلمانوں کا عدد پورا ہوا،آپ سے تین دن پہلے جناب حمزہ ایمان لائے تھے۔ (مرقات)
۳
؎یعنی جناب عمر کے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمان چھپ کر نمازیں پڑھتے تھے آپ کے اسلام لانے پر مسلمانوں نے علانیہ مسجد حرام میں آکر نماز پڑھی۔یہاں نماز سے یہ نماز پنجگانہ فریضہ اسلام مراد نہیں کیونکہ حضرت عمر نبوت کے پانچویں سال ایمان لائے اور نماز پنج گانہ نبوت کے گیارہویں سال معراج میں فرض ہوئیں،بلکہ اس سے وہ نمازیں مراد ہیں جو حضور انور اپنے الہام سے لوگوں کو پڑھاتے اور خود پڑھتے تھے جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ جب حضور پر پہلی وحی آئی تو آپ غار حرا میں اعتکاف و عبادات میں مصروف تھے۔بعض روایات میں ہے کہ اس دن حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عمر کو فاروق کا خطاب دیا مگر بعض روایات میں ہے کہ آپ کو فاروق کا خطاب اس دن دیا گیا جب آپ نے اس منافق کو قتل کیا جو ایک یہودی کے ساتھ جھگڑے میں حضور انور کے فیصلہ سے راضی نہ ہوا تھا آپ کے پاس اپیل لایا تھا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6045