- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6045
باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6045
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللّٰهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ ثُمَّ صَلّٰى فِي الْمَسْجِدِ ظَاهِرًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ
وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اللهم أعز الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطاب» فأصبح عمر فغدا على النبي صلى الله عليه وسلم فأسلم ثم صلى في المسجد ظاهرا. رواه أحمد والترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا الٰہی اسلام کو عزت دے یا ابوجہل ابن ہشام سے یا عمر ابن خطاب کے ذریعہ ۱؎تو جناب عمر نے سویرا کیا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں صبح ہی حاضر ہوئے اسلام قبول کرلیا۲؎پھر مسجد میں ظاہر ظہور نماز پڑھی گئی۳؎(احمد و ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی الٰہی ان دونوں میں سے ایک کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دے تاکہ ان کے ذریعہ سے اسلام خوب پھیلے۔معلوم ہوا کہ عالم اسباب میں اسباب سے کام لینا جائز ہے۔حضرت عمر کا اسلام سبب بنا اشاعت اسلام کا،حضور انور نے اس کی دعا مانگی۔رب تعالٰی بھی حضرت عمر کے متعلق ارشاد فرماتاہے:"یٰۤاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ"اے نبی آپ کو اللہ تعالٰی اور یہ مؤمن کافی ہے جس نے اب آپ کی اتباع کی ہے یعنی حضرت عمر۔آپ کے اسلام لانے پر فرشتوں نے ایک دوسرے کو مبارک بادیاں دیں۔غرضکہ سب طالب اسلام ہیں اور حضرت عمر مطلوب اسلام۔
۲؎آپ کے اسلام لانے کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ ابوجہل نے اعلان کیا کہ جو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کرے اسے ایک سو اونٹنیاں اور ایک سو اوقیہ چاندی انعام دوں گا،حضرت عمر نے اس سے کہا کہ کیا تو یہ وعدہ پورا کرے گا اس نے کہا ہاں نقد دوں گا ادھار نہ ہوگا،آپ تلوار لےکر دار ارقم کی طرف چل دیئے جہاں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع مسلمانوں کے قیام فرما تھے،راستہ میں کسی نے کہا کہ عمر تم نے اگر ان کو قتل کردیا تو بنی ہاشم کے مقابلہ سے کیسے بچو گے،آپ نے فرمایا شاید تو بھی مسلمان ہوچکا ہے جو مجھے ڈراتا ہے اس نے کہا کہ اس سے عجیب یہ ہے کہ تمہاری بہن اور تمہارے بہنوئی بھی مسلمان ہوچکے ہیں،آپ کو غیرت آئی اپنی بہن کے گھر پہنچے تو گھر سے قرآن مجید کی تلاوت کی آواز آرہی تھی،حضرت سعید ابن زید جو ان دونوں کو قرآن پڑھا رہے تھے وہ چھپ گئے،آپ نے اپنے بہنوئی سے کہا میں نے سنا ہے تم مسلمان ہوچکے ہو یہ کہہ کر انہیں لپٹ گئے مارنے لگے،بہن چھڑانے لگیں تو انہیں بھی مارا،بہن بولیں اے عمر تم چاہے ہم کو ہلاک کردو ہم تو مسلمان ہوچکے ہیں،اس کلام نے اپنا کام کردیا دل پر چھری سی چل گئی،فرمایا وہ کلام مجھے بھی سناؤ جو تم پڑھ رہی تھیں،فرمایا پہلے غسل کرو آپ نے غسل کیا پھر کلام سنا سورہ طٰہٰ شریف تھی جب یہ آیت"اَللهُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا هُوَ لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی"سنی تو نعرہ مار کر بولے کہ جس کی یہ صفت ہے وہ ہی لائق عبادت ہے۔اتفاقًا حضرت خباب ابن ارت وہاں پہنچے فرمایا اے عمر آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمہارے ایمان کی دعا مانگی ہے تم کو ایمان اس دعا کی برکت سے ملا پھر آپ حضرت خباب کے ساتھ حضور کے پاس بیت ارقم میں پہنچے؎گر کے قدموں پر وہ قربان ہوگئے
پڑھ لیا کلمہ مسلمان ہوگئے (مرقات)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضور نے یہ دعا نہ کی تھی کہ خدایا اسلام کو عمر کے ذریعہ عزت دے بلکہ دعا یہ کی تھیاللھم اعز عمر بالاسلامخدایا عمر کو بذریعہ اسلام عزت دے مگر یہ غلط ہے حضور نے یہ ہی دعا کی تھی کہ خدایا عمر کے ذریعہ اسلام کو عزت دے،یہ ایسا ہی ہے جیسے رب کا فرمانا"فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ"یا حضور فرماتے ہیںزینوا القرآن باصواتکم۔حضرت عمر نبوت کے پانچویں سال ایمان لائے،آپ سے چالیس مسلمانوں کا عدد پورا ہوا،آپ سے تین دن پہلے جناب حمزہ ایمان لائے تھے۔ (مرقات)
۳؎یعنی جناب عمر کے اسلام سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمان چھپ کر نمازیں پڑھتے تھے آپ کے اسلام لانے پر مسلمانوں نے علانیہ مسجد حرام میں آکر نماز پڑھی۔یہاں نماز سے یہ نماز پنجگانہ فریضہ اسلام مراد نہیں کیونکہ حضرت عمر نبوت کے پانچویں سال ایمان لائے اور نماز پنج گانہ نبوت کے گیارہویں سال معراج میں فرض ہوئیں،بلکہ اس سے وہ نمازیں مراد ہیں جو حضور انور اپنے الہام سے لوگوں کو پڑھاتے اور خود پڑھتے تھے جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ جب حضور پر پہلی وحی آئی تو آپ غار حرا میں اعتکاف و عبادات میں مصروف تھے۔بعض روایات میں ہے کہ اس دن حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عمر کو فاروق کا خطاب دیا مگر بعض روایات میں ہے کہ آپ کو فاروق کا خطاب اس دن دیا گیا جب آپ نے اس منافق کو قتل کیا جو ایک یہودی کے ساتھ جھگڑے میں حضور انور کے فیصلہ سے راضی نہ ہوا تھا آپ کے پاس اپیل لایا تھا۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6045