Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6054

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ: سَأَلَنِي ابْنُ عُمَرَ بَعْضَ شَأْنِهٖ يَعْنِي عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينِ قُبِضَ كَانَ أَجَدَّ وَأَجْوَدَ حَتّٰى انْتَهٰى مِنْ عُمَرَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أسلم قال: سألني ابن عمر بعض شأنه يعني عمر فأخبرته فقال: ما رأيت أحدا قط بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم من حين قبض كان أجد وأجود حتى انتهى من عمر. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسلم سے ۱؎فرماتے ہیں مجھ سے ابن عمر نے ان کے یعنی حضرت عمر کے بعض حالات پوچھے ۲؎میں نے انہیں خبر دی تو فرمایا کہ جب سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی وفات ہوئی میں نے حضرت عمر سا کوئی زیادہ کوشش والا زیادہ سخی نہیں دیکھا حتی کہ وفات پائی ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزادکردہ غلام ہیں،آپ کی کنیت ابو خالد ہے،حبشی تھے، ۱۱ھ؁ ∞میں آپ کو حضرت عمر نے خریدا تھا،آپ تابعی ہیں اور آپ کے بیٹے کا نام زید ابن اسلم ہے،آپ نے مروان ابن حکم کی حکومت میں وفات پائی ایک سو چودہ سال عمر ہوئی۔(مرقات)ایک اسلم اور بھی ہیں جن کی کنیت ابو رافع ہے وہ صحابی ہیں وہ یہاں مراد نہیں۔
۲
؎چونکہ جناب اسلم حضرت عمر کے غلام اور خاص خادم تھے آپ کے علانیہ اور خفیہ حالات سے مطلع تھے اس لیے حضرت عبدالله ابن عمر اگرچہ صاحبزادہ ہیں مگر آپ کے خفیہ حالات خادم خاص سے پوچھ رہے ہیں یعنی حضرت عبدالله ابن عمر نے مجھ سے فرمایا کہ میرے والد حضرت عمر رضی الله عنہ کے وہ خصوصی خفیہ حالت بیان کرو جس کی صرف تم کو خبر ہوگی اور کسی کو خبر نہیں۔
۳
؎یعنی حضور انور کی وفات کے بعد خلافت فاروقی میں آپ سے بڑھ کر محنتی الله کی راہ میں جفا کشی راہ خدا میں زیادہ سخی کوئی نہ دیکھا۔(اشعۃ اللمعات)اس صورت میں حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ تو آپ سے بڑھ کر سخی اور محنتی تھے یا یوں کہو کہ یہ حضرت عمر کی خصوصی فضیلت ہے آپ کی مثل مشقت و محنت الله کی راہ میں غالبًا کسی نے نہ کی ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6054