Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6038

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا دُونَ ذٰلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذٰلِكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي سعيد قال: قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «بينا أنا نائم رأيت الناس يعرضون علي وعليهم قمص منها ما يبلغ الثدي ومنها ما دون ذلك وعرض علي عمر بن الخطاب وعليه قميص يجره» قالوا: فما أولت ذلك يا رسول الله؟ قال: «الدين» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب میں سورہا تھا تو میں نے لوگوں کو دیکھا وہ مجھ پر پیش کیے جارہے ہیں جن پر قمیض ہیں،بعض وہ ہیں جو پستان تک پہنچتی ہیں بعض اس سے بھی کم ۱؎اور مجھ پر عمر ابن خطاب پیش کیے گئے اس حال میں کہ ان پر وہ قمیض ہے جسے وہ کھینچ رہے ہیں ۲؎لوگوں نے کہا یارسول اللہ اس کی کیا تعبیر لی فرمایا دین ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎دون ذلكمیں دو احتمال ہیں: اس سے کم یا اس سے نیچے۔دوسرے معنی کی تائید وہ روایت کرتی ہے کہ بعض کی قمیض ناف تک تھی،بعض کی گھٹنے تک،بعض کی آدھی پنڈلی تک یہ حضور کا خواب ہے اور نبی کا خواب وحی ہوتا ہے جس پر شرعی احکام جاری ہوتے ہیں"یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذْبَحُكَ
۲
؎یعنی حضرت عمر کی قمیض ان کے قدموں سے نیچے تھی جو ان کے چلنے پر گھسٹ رہی تھی۔
۳
؎حضور انور نے لباس کی تعبیر دین سے فرمائی کیونکہ لباس تو بدن کا ستر اور زینت ہے اور دین دل و جان کا ستر بھی ہے زینت بھی۔اس خواب اور نبوی تعبیر سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر نہایت ہی کامل الایمان قوی دین والے ہیں،اگر ہم جیسے گنہگاروں پر جناب فاروق کی نظر کرم ہوجائے تو ہمارے دین و ایمان کامل سے کامل تر ہوجائیں رضی اللہ عنہ۔ غالب یہ ہے کہ ان پیش ہونے والوں میں حضرت ابوبکر صدیق نہ ہوں گے۔خیال رہے کہ دین یا ایمان کی مقدار میں زیادتی کمی نہیں ہوتی یعنی کوئی آدھا یا چوتھائی مسلمان نہیں ہوتا سارے پورے مؤمن ہوتے ہیں،ہاں کیفیت میں فرق ہوتا ہے،بعض مؤمن،بعض کامل مؤمن،بعض اکمل یعنی کامل تر مؤمن "وَلٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیۡ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6038