Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6052

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: فُضِّلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِأَرْبَعٍ: بِذِكْرِ الْأُسَارٰى يَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُم عَذَابٌ عَظِيمٌ وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَقَالَتْ لَهٗ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللّٰهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» وَبِرَأْيِهٖ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ نَاسٍ بَايَعَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن ابن مسعود قال: فضل الناس عمر بن الخطاب بأربع: بذكر الأسارى يوم بدر أمر بقتلهم فأنزل الله تعالى لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم وبذكره الحجاب أمر نساء النبي صلى الله عليه وسلم أن يحتجبن فقالت له زينب: وإنك علينا يا ابن الخطاب والوحي ينزل في بيوتنا؟ فأنزل الله تعالى وإذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء حجاب وبدعوة النبي صلى الله عليه وسلم: «اللهم أيد الإسلام بعمر» وبرأيه في أبي بكر كان أول ناس بايعه. رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ عمر ابن خطاب کو چار باتوں میں لوگوں پر بزرگی عطا ہوئی بدر کے دن قیدیوں کے تذکرہ سے آپ نے ان کے قتل کا مشورہ دیا ۱؎تو الله تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ رب کی تحریر پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو تم کو اس لیے ہوئے مال میں بڑا عذاب پہنچتا۲؎اور ان کے پردہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ آپ نے نبی صلی الله علیہ و سلم کی بیویوں کو پردہ کا مشورہ دیا تو ان سے جناب زینب بولیں اے ابن خطاب کیا تم ہم پر حکم چلاتے ہو حالانکہ وحی ہمارے گھروں میں اترتی ہے ۳؎تب رب نے یہ آیت نازل کی کہ جب تم ان سے سامان مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو۴؎اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی دعا سے کہ الٰہی تو عمر کے ذریعہ اسلام کو قوت دے اور ان کی رائے جناب ابوبکر کے متعلق رائے کی وجہ سے آپ نے لوگوں سے پہلے ان سے بیعت کی۵؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضرت عمر کا مشورہ یہ تھا کہ سارے قیدی اس طرح قتل کیے جائیں کہ ہر مسلمان اپنے عزیز کافر قیدی کو قتل کرے اس طرح کہ یارسول الله اپنے چچا عباس کو آپ قتل کریں اور اپنے بیٹے عبدالرحمن کو حضرت صدیق قتل کریں اوراپنے ماموں ہشام کو میں قتل کروں یہ لوگ سرداران کفر ہیں ان کے قتل ہوجانے سے کفر کا زور ٹوٹ جائے گا،حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے عرض کیا یارسول الله یہ لوگ آخر ہمارے ہی بھائی بھتیجے وغیرہ ہیں ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جاوے،اس فدیہ کے مال سے اسلام کو قوت حاصل ہوگی،اس سے ہم آئندہ غزوات کے لیے ہتھیار خریدیں گے اور یہ قیدی شاید آئندہ مسلمان ہوجاویں،حضور انور نے جناب صدیق اکبر وغیرہ کی رائے کو ترجیح دی اور ان تمام قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔
۲
؎خیال رہے کہ ان خطابات میں حضور صلی الله علیہ و سلم داخل نہیں روئے سخن اور حضرات سے ہے اس لیےلمسکماوراخذتممیں جمع کی ضمیریں ارشاد ہوئیں۔یہ بھی خیال رہے کہ ارادۂ الٰہی یہ ہی تھا کہ یہ لوگ فدیہ لے کر چھوڑ دیئے جاویں اور بعد میں سب مؤمن ہوکر اسلام کی بڑی بڑی خدمات انجام دیں چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ سارے چھوٹے ہوئے قیدی بعد میں مسلمان ہوئے اور اسلام کی بڑی خدمات انجام دیں،نہ یہ چھوڑنا برا تھا اگر چھوڑنا برا ہوتا تو یہ آیت پہلے ہی آجاتی اور چھوڑنے سے روک دیتی،یہ کیا ہوا کہ جب چھوڑ دیئے گئے مال وصول کرلیا گیا پھر یہ آیت نازل ہوئی، نیز اگر یہ کام برا ہوتا تو یہ لیا ہوا مال حرام ہوتا حلال نہ ہوتا مگر وہ مال فدیہ حلال رہا،رب نے فرمایاکہ"فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا"پھر لطف یہ ہے کہ یہاں تو فدیہ لینے پر بظاہر عتاب ہو رہا ہے مگر آئندہ کے لیے اجازت دی جارہی ہے کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا کرنا کہ ارشاد ہوا"فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً"اس آیت کا منشا یہ ہے کہ تم لوگوں نے اتنا بڑا کام خود اپنے اجتہاد سے کیوں کیا وحی کا انتظار کیوں نہ کیا لہذا اس واقعہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت عمر جناب ابوبکر صدیق یا حضور صلی الله علیہ و سلم سے افضل ہوں اور ان قیدیوں کا چھوڑنا گناہ ہو،اس کی تحقیق ہماری تفسیر میں اسی آیت کے ماتحت دیکھو۔حضرت صدیق کی خطا ان سب کی سلامتی جان اور ایمان بلکہ صحابیت وغیرہ کا ذریعہ بنی اس خطا پر ہماری عمر بھر کی عبادتیں قربان ہوں۔
۳
؎حضرت زینب بنت جحش رضی الله عنہا کچھ تیز طبیعت تھیں اور ابھی پردہ کے احکام آئے نہ تھے حضرت عمر کی رائے تھی کہ پردہ ہو اس پر آپ ناراض ہوئیں۔
۴
؎حضرت عمر کے تاقیامت مسلمانوں پر بڑے ہی احسانات ہیں ہم کو پردہ کی نعمت ملی تو ان سرکار کے صدقہ سے،رمضان کی راتوں میں بیویوں کے پاس جانے کی اجازت ملی تو ان کے طفیل،نماز تراویح کی باقاعدہ دائمی جماعت ملی تو ان کے کرم سے اور آج تراویح کے ذریعہ حفظ قرآن بلکہ حفاظت قرآن ہے،الله تعالٰی ہم سب کی طرف سے ان سرکار کو جزاء خیر دے۔
۵
؎خیال رہے کہ دنیا میں چار انتخاب بہت ہی اعلیٰ و افضل ہوئے: جناب آسیہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انتخاب کیا کہ میں انہیں پرورش کروں گی"عَسٰۤی اَنۡ یَّنۡفَعَنَاۤ"،بی بی صفورا نے موسیٰ علیہ السلام کا انتخاب کیا کہ اپنے والد سے کہا"یٰۤاَبَتِ اسْتَاۡجِرْهُ"ابا جان انہیں اپنے کام کے لیے رکھ لو،زلیخا نے یوسف علیہ السلام کا انتخاب کیا انہیں خرید کر اپنے گھر کے لیے،حضرت عمرنے جناب صدیق کا انتخاب کیا خلافت کے لیے،اس آخری انتخاب کا فائدہ دنیا ہمیشہ اٹھائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6052