Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6046

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذٰلِكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلٰى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ»رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن جابر قال: قال عمر لأبي بكر: يا خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال أبو بكر: أما إنك إن قلت ذلك فلقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما طلعت الشمس على رجل خير من عمر»رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جناب عمر نے ابوبکر صدیق سے کہا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد تمام لوگوں سے ۱؎بہتر تو جناب ابوبکر نے کہا کہ آگاہ رہو اگر تم نے یہ کہا ہے تو میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے کہ کسی شخص پر سورج نہیں چمکا جو جناب عمر سے بہتر ہو۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ ہی اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق بعد انبیاء تمام خلق سے افضل ہیں۔یہاںبعد رسول اللهسے مراد بعد انبیاءکرام ہے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ آپ نبیوں سے افضل ہوں۔
۲
؎یہاں یا تو زمانہ فاروقی کا ذکر ہے جب حضرت ابوبکر صدیق وفات پاچکے ہوں گے،یا بعد ابوبکر صدیق مراد ہے،یا یہ مطلب ہے کہ عدالت میں یا سیاست میں حضرت عمر سب سے افضل ہیں ان جیسا دنیا میں کوئی سیاست دان عادل نہ ہوا۔لہذا یہ فرمان اس کے خلاف نہیں کہ حضرت صدیق بعد انبیاء سب سے افضل ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6046