- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6049
باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6049
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ. فَقَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تَزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي» فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلٰى مَنْكِبِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلٰى رَأْسِهٖ.فَقَالَ لِي:«أَمَا شَبِعْتِ؟أَمَاشَبِعْتِ؟» فَجَعَلْتُ أَقُولُ:لَا لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَه إِذْ طَلَعَ عُمَرُ فَارْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « إِنِّي لأَنْظُرُ إِلٰى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ» قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
وعن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا فسمعنا لغطا وصوت صبيان. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا حبشية تزفن والصبيان حولها فقال: «يا عائشة تعالي فانظري» فجئت فوضعت لحيي على منكب رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعلت أنظر إليها ما بين المنكب إلى رأسه.فقال لي:«أما شبعت؟أماشبعت؟» فجعلت أقول:لا لأنظر منزلتي عنده إذ طلع عمر فارفض الناس عنها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إني لأنظر إلى شياطين الإنس والجن قد فروا من عمر» قالت: فرجعت. رواه الترمذي وقال: هذاحديث حسن صحيح غريب
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے شور اور بچوں کی آواز سنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوئے تو ایک حبشی بچی ناچ رہی تھی اور بچے اس کے اردگرد تھے ۱؎فرمایا اے عائشہ آؤ دیکھو ۲؎چنانچہ میں آئی تو میں نے اپنے جبڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کندھے پر رکھ دیئے ۳؎میں حضور کے سر اور کندھے کے درمیان سے ادھر دیکھنے لگی مجھ سے فرمایا کیا تم سیر نہیں ہوئیں کیا تم سیر نہیں ہوئیں میں کہنے لگی نہیں تاکہ میں حضور کے نزدیک اپنا مقام دیکھوں ۴؎کہ اچانک حضرت عمر نمودار ہوئے تو لوگ اسے چھوڑ کر بھاگ گئے ۵؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں جن و انس کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر سے بھاگ گئے ۶؎فرماتی ہیں پھرمیں لوٹ آئی(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی غریب بھی۔
شرح حدیث
۱∞؎یہ ناچنے والی لونڈی تھی وہ بھی بچی اور اس کا تماشہ دیکھنے والے بھی مدینہ منورہ کے بچے تھے۔تزفنبنا ہےزفنسے بمعنی پاؤں زمین پر مارنا،اس سے مراد ہے ناچنا عمومًا بچے ایسی حرکت کرتے ہیں یہ ان کا کھیل کود اور شغل ہوتا ہے۔
۲؎اس وقت ام المؤمنین بھی نو عمر بچی ہی تھیں آپ کو کھیل دیکھنے کا بہت شوق تھا یہ ہے حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کا اخلاق کریمانہ۔ہم کو تعلیم دی کہ گھر والوں سے ایسا برتاؤ کرو اپنی بیوی کے جائز شوق حتی المقدور پورے کرو۔معلوم ہوا کہ بچوں کا کھیلنا اور انہیں کھیل دکھانا بالکل جائز ہے۔
۳؎لحییتثنیہ ہےلحیٰکا بمعنی جبڑے،یہ مضاف ہے متکلم کی طرف اس لیے ی مشددہے۔یعنی حضورانورصلی اللہ علیہ و سلم میرے سامنے کھڑے ہوگئے آڑ بن گئے میں نے حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ دی کندھے اور سر مبارک کے درمیان سے ان کا کھیل دیکھنے لگی؎ناز برداری تمہاری کیوں نہ فرمائے خدا
نازنین حق نبی ہیں تم نبی کی نازنین
آپ کا لقب ہے محبوبہ محبوب رب العالمین رضی اللہ عنہا،ہم سب کو فخر ہے کہ ہم اس عظمت والی ماں کی اولاد ہیں۔
۴؎یعنی میں بہت دیر تک یہ تماشا دیکھتی رہی اور حضور انور میری خاطر کھڑے رہے،میں اگرچہ تماشہ سے سیر ہوچکی تھی مگر میں یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ حضور انور کو مجھ سے کتنی محبت ہے اور میری خاطر حضور کب تک یہاں قیام فرما رہیں گے۔
۵؎اس بھاگنے کی وجہ ابھی پچھلی حدیث میں عرض کی گئی کہ یہ کام جائز تھا مگر صورۃً کھیل تماشا تھا،حضرت عمر کی ہیبت چھوٹوں بڑوں سب کے دلوں میں تھی یہ رعب و ہیبت رب تعالٰی کا عطیہ تھی۔
۶؎یہ شیاطین جو اس وقت بھاگے یہ وہ شیاطین تھے جو انسانوں کے ساتھ رہتے یا جو بازاروں میں مجمعوں میں رہتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ بازاروں میں مساجد میں مجمعوں میں شیاطین رہتے ہیں،مسجدوں کے شیاطین وضو اور نماز میں بہکانے کے لیے رہتے ہیں،بازاروں میں گناہ کرانے کے لیے،اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ بازاروں اور مسجدوں میں جانا حرام ہو یا وہاں کی حاضری شیطانی کام ہو۔دوسری روایات میں ہے کہ عید کے دن بچے حدود مسجد میں کھیل رہے تھے حضرت عمر نے انہیں بھگانا چاہا تو حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا عمر آج عید ہے انہیں عید منانے دو۔حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس کچھ بچیاں گا بجا رہی تھیں حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم چادر اوڑھے لیٹے تھے،جناب صدیق اکبر نے انہیں منع کیا تو چہرہ انور کھول کر فرمایا کہ اے ابوبکر ہر قوم کی عید ہوتی ہے آج ہماری عید ہے انہیں خوشی منانے دو۔بہرحال یہ حدیث بالکل واضح ہے کہ حضرت ام المؤمنین بھی اس وقت بچی تھیں اور وہ ناچنے والی بھی بچی ناچ دیکھنے والے بھی بچے تھے لہذا یہاں بے پردگی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6049