Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6037

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دَخَلْتُ الجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ: مَنْ هٰذَا ؟ فَقَالَ: هٰذَابِلَالٌ وَرَأَيْتُ قَصْرًا بِفِنَائِهٖ جَارِيَةٌ فَقُلْتُ: لِمَنْ هٰذَا ؟ فَقَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهٗ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ"فَقَالَ عُمَرُ:بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَعَلَيْكَ أَغَارُ؟ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "دخلت الجنة فإذا أنا بالرميصاء امرأة أبي طلحة وسمعت خشفة فقلت: من هذا ؟ فقال: هذابلال ورأيت قصرا بفنائه جارية فقلت: لمن هذا ؟ فقالوا: لعمر بن الخطاب فأردت أن أدخله فأنظر إليه فذكرت غيرتك"فقال عمر:بأبي أنت وأمي يا رسول الله أعليك أغار؟ . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں جنت میں گیا ۱؎تو میں ابو طلحہ کی بیوی رمیصا کے پاس پہنچا ۲؎اور میں نے ایک آہٹ سنی تو میں نے کہا یہ کون ہیں فرمایا یہ بلال ہیں ۳؎اور میں نے ایک محل دیکھا جس کے صحن میں ایک بی بی تھیں میں نے کہا یہ کس کا ہے سب نے کہا عمرابن خطاب کا۴؎میں نے چاہا کہ وہاں داخل ہوں کہ اسے دیکھوں تو تمہاری غیرت یاد آگئی۵؎جناب عمر نے کہامیرے ماں باپ آپ پر فدا یا رسول اللہ کیا میں آپ پر غیرت کرسکتا ہوں ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ یا تو معراج کا ہے یا کشف کا یا خواب کا۔
۲
؎رمیصاء نام ہے حضرت ام سلیم کا جو حضرت انس کی والدہ اور ابو طلحہ کی بیوی ہیں،آپ پہلے مالک کی بیوی تھیں ان سے انس ابن مالک پیدا ہوئے پھر ابوطلحہ کے نکاح میں آئیں۔رمیصاءبنا ہےرمصسے،رمصآنکھ کا کیچڑ جو آنکھ کے کوئے میں جمع ہوجائے۔آپ کے نام میں بہت روایات ہیں بعض میں غمیصا ہے،بعض میں رمیصاء ص بے نقطہ والی ہے، بعض میں رمیضاء ض نقطہ والی سے،معنی سب کے ایک ہیں۔آپ رمیصاء بنت ملحان ہیں،کنیت ام سلیم اگرچہ ابھی آپ جنت میں پہنچی نہ تھیں وہاں داخلہ قیامت کے بعد ہوگا مگر نبی کی نگاہ آئندہ واقعات بھی دیکھ لیتی ہے ام سلیم تو ابھی زندہ تھیں۔سبحان الله!کیسی خوش نصیب بی بی ہیں کہ حضور انور نے ان کے جیتے جی انہیں جنت میں دیکھ لیا۔
۳
؎یہ فرمان عالیباب التطوعمیں گزرچکا۔ایک روایت میں یوں ہے کہ ہم جب بھی جنت میں گئے تو ہم نے بلال کو اپنے آگے چلتے دیکھا،حضور انور کو قیامت میں جنت میں داخلہ کے وقت کا واقعہ آج دکھا دیا گیا کہ جب حضور انور سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے تو حضرت بلال آپ کے آگے خادمانہ شان سے ہٹو بچو کہتے ہوئے چلیں گے۔اے بلال! تیری تقدیر کے قربان۔
۴
؎ایک روایت میں یوں ہے کہ ہم نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ملائکہ نے عرض کیا ایک عربی شخص کا،ہم نے کہا کہ عربی تو ہم بھی ہیں یہ کس شخص کا محل ہے کہا ایک قرشی کا،میں نے کہا کہ قرشی ہم بھی ہیں یہ ہے کس کا فرشتوں نے کہا محمد مصطفی کے ایک امتی کا،ہم نے فرمایا محمد مصطفی ہم ہی ہیں یہ کس کا محل ہے تب کہا عمر ابن خطاب کا۔(مرقات)
۵
؎یعنی چونکہ اس محل میں تمہاری بی بی حورحین بھی تھی اس لیے ہم تمہاری غیرت کا خیال کرکے اندر نہ گئے ورنہ خیال تھا کہ اس کے ہر گوشہ میں گھوم پھر کر اس محل کا معائنہ فرماویں۔
۶
؎امام سیوطی نے اس کے ساتھ یہ الفاظ بھی روایت فرمائےھل رفعنی الله الا بك وھل ھدانی الله الا بكمجھے اللہ نے آپ کے صدقہ تو یہ بلندی بخشی اور آپ ہی کے صدقہ سے ہدایت دی آپ میرے مائی باپ ہیں آپ پر کیا غیرت؎شکر فیض تو چمن چوں کند اے ابر بہار
کہ اگر خارہ گر گل ہمہ پروردہ تست
برات کی ساری بہار دولہا کے دم قدم سے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6037