Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6036

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهٗ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهٗ وَيَسْتَكْثِرْنَهٗ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ فَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَدَخَلَ عُمَرُ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ فَقَالَ: أَضْحَكَ اللّٰهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ» قَالَ عُمَرُ: يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَ: نَعَمْ أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ».(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ: زَادَ الْبَرْقَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهٖ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ: مَا أَضْحَكَكَ

وعن سعد بن أبي وقاص قال: استأذن عمر بن الخطاب على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده نسوة من قريش يكلمنه ويستكثرنه عالية أصواتهن فلما استأذن عمر قمن فبادرن الحجاب فدخل عمر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك فقال: أضحك الله سنك يا رسول الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «عجبت من هؤلاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك ابتدرن الحجاب» قال عمر: يا عدوات أنفسهن أتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلن: نعم أنت أفظ وأغلظ. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إيه يا ابن الخطاب والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان سالكا فجا قط إلا سلك فجا غير فجك».(متفق عليه) وقال الحميدي: زاد البرقاني بعد قوله: يا رسول الله: ما أضحكك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں حضرت عمر ابن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے حاضری کی اجازت مانگی حضور کے پاس قریش کی کچھ عورتیں تھیں ۱؎جو آپ سے کلام کر رہی تھیں اور زیادہ مانگتی تھیں ۲؎اونچی آواز سے۳؎تو جب حضرت عمر نے اجازت مانگی تو ان سب نے حجاب میں جلدی کی۴؎تو عمر حاضر ہوئے اور رسول اللہ ہنس رہے تھے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ آپ کے دندان کو ہنستا رکھے۵؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ان عورتوں سے تعجب کرتا ہوں جو میرے پاس تھیں جب انہوں نے آپ کی آواز سنی تو پردے میں جلدی کی۶؎حضرت عمر نے فرمایا اے اپنی جانوں کی دشمن ۷؎کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے نہیں ڈرتیں وہ بولی ہاں۸؎آپ سخت طبیعت اور سخت گیر ہیں ۹؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خوب اے ابن خطاب اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے شیطان تم سے نہیں ملتا کسی راستہ میں چلتا ہوا مگر وہ آپ کی راہ کے سوا دوسرے راہ چلتا ہے ۱۰؎(مسلم،بخاری)حمیدی نے کہا کہ برقانی نے یارسول اللہ کے بعدما أضحككسے زیادہ کیا ۱۱؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ بیویاں حضور انور کی ازواج پاک تھیں: حضرت عائشہ،حفصہ،ام سلمہ،زینب بنت جحش وغیرہا۔(مرقاۃ،اشعہ)لہذا یہ اعتراض نہیں پڑسکتا کہ حضور انور سے ان عورتوں نے پردہ کیوں نہیں کیا۔
۲
؎یعنی عرض یہ کرتی تھیں ہمارا خرچہ جو حضور سے ہم کو ملتا ہے وہ کم ہے زیادہ عطا ہوا کرے اس میں ہمارا گزارا نہیں ہوتا،استکثارکے معنی ہیں زیادہ مانگنا۔
۳
؎یہ واقعہ یا تو اسوقت کا ہے جب کہ ابھی آیت کریمہ"لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ"الخ نہیں آئی تھی یا ان میں سے ہر ایک بی بی صاحبہ آہستہ آہستہ آواز سے بولتی تھیں مگر سب آوازیں مل کر بلند ہوتی تھی،یا یہ کہو کہ حضور کی آواز شریف پر اپنی آواز بلند کرنا یا بے ادبی سے اونچی آواز کرنا حرام ہے مطلقًا بلند آواز کرنا منع نہیں،یہ بلندی آواز حرام نہ تھی۔(مرقات)لہذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں کہ ازواج پاک حضور عالی کی بارگاہ میں اونچی آواز سے کیوں کلام کرتی تھیں کیا حضور انور کے سامنے اذان نہیں ہوتی تھی اور اونچی آواز سے ہوتی تھی مگر یہ بلندی آواز جائز تھی۔عالیۃ اصواتہنسے مراد ہے کہ وہ روزانہ عادی آواز سے زیادہ آواز بلند کیے تھیں۔
۴
؎ان بیویوں میں اکثر وہ تھیں جو حضرت عمر سے اجنبی تھیں،ان سے پردہ فرض تھا جیسے حضرت صدیقہ وغیرہا اور بعض وہ بھی تھیں جو حضرت عمر کی محرم تھیں جیسے جناب حفصہ بنت عمر مگر یہ سب ہی چھپ گئیں کیوں،ہیبت فاروقی کی وجہ سے۔
۵
؎یعنی یارسول اللہ اللہ تعالٰی آپ کو ہنسی خوشی رکھے میرے آقا اس وقت تبسم کی وجہ کیا ہے۔معلوم ہوا کہ شاہوں کے آستانہ میں گفتگو کرنے کا بھی سلیقہ چاہیے،دعائیں دے رہے ہیں بات کچھ نہیں کہتے کہ حضور دعائیں سن لیں مقصد خود سمجھ لیں۔
۶
؎یعنی یہ بیویاں مجھ سے نہ ڈریں تم سے ڈریں۔خیال رہے کہ مقام ناز اور ہے مقام خوف دوسرا حضور پر تو گنہگاروں کو بھی ناز ہے وہاں مچلنا اور مچل مچل کر مانگنا ہی رب کو محبوب؎کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے
گنہگار نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے
۷
؎یہ لفظ اس غضب کا ہے جس میں کرم شامل ہو جیسے حضور کا فرمان عقر حلق،یا پنجابی میں اوڈپڈ جانیے،یا اردو میں منڈی منڈی وغیرہ یعنی تم خرچہ زیادہ کرانے کے لیے اپنے نفع نقصان کا بھی خیال نہیں کرتیں۔حضور انور کے سامنے زیادہ بے تکلفی کبھی ضبط اعمال کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے اس لیے تم اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال رہی ہو خود اپنی دشمن ہو۔
۸
؎ہاں کا تعلق صرف ایک بات سے ہے یعنی ہاں ہم آپ سے ڈرتے ہیں،یہ معنی نہیں کہ ہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے نہیں ڈرتے۔(مرقات)
۹
؎یعنی آپ کے ہاں پکڑ زیادہ ہے حضور کے ہاں کرم زیادہ ہے اس لیے اے عمر تم سے ڈر لگتا ہے۔
۱۰
؎اس فرمان عالی کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ تو کمزور عورتیں ہیں،تمہاری ہیبت کا تو یہ حال ہے کہ شیطان جیسا مردود سخت تر جن بھی تم سے ڈرتا ہے،تمہیں دیکھ کر بھاگتا ہے راستہ چھوڑ جاتا ہے،یہ مطلب نہیں کہ ان عورتوں کا یہ کام شیطانی تھا یا اس وقت شیطان وہاں موجود تھا جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے تو نہ بھاگا حضرت عمر سے بھاگ گیا۔
۱۱
؎برقان ملک خوارزم کا ایک شہر ہے یہ محدث وہاں کے رہنے والے تھے اس لیے انہیں برقانی کہا جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6036