- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6036
باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6036
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهٗ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهٗ وَيَسْتَكْثِرْنَهٗ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ فَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَدَخَلَ عُمَرُ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ فَقَالَ: أَضْحَكَ اللّٰهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ» قَالَ عُمَرُ: يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَ: نَعَمْ أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ».(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ: زَادَ الْبَرْقَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهٖ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ: مَا أَضْحَكَكَ
وعن سعد بن أبي وقاص قال: استأذن عمر بن الخطاب على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده نسوة من قريش يكلمنه ويستكثرنه عالية أصواتهن فلما استأذن عمر قمن فبادرن الحجاب فدخل عمر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك فقال: أضحك الله سنك يا رسول الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «عجبت من هؤلاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك ابتدرن الحجاب» قال عمر: يا عدوات أنفسهن أتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلن: نعم أنت أفظ وأغلظ. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إيه يا ابن الخطاب والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان سالكا فجا قط إلا سلك فجا غير فجك».(متفق عليه) وقال الحميدي: زاد البرقاني بعد قوله: يا رسول الله: ما أضحكك
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں حضرت عمر ابن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے حاضری کی اجازت مانگی حضور کے پاس قریش کی کچھ عورتیں تھیں ۱؎جو آپ سے کلام کر رہی تھیں اور زیادہ مانگتی تھیں ۲؎اونچی آواز سے۳؎تو جب حضرت عمر نے اجازت مانگی تو ان سب نے حجاب میں جلدی کی۴؎تو عمر حاضر ہوئے اور رسول اللہ ہنس رہے تھے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ آپ کے دندان کو ہنستا رکھے۵؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ان عورتوں سے تعجب کرتا ہوں جو میرے پاس تھیں جب انہوں نے آپ کی آواز سنی تو پردے میں جلدی کی۶؎حضرت عمر نے فرمایا اے اپنی جانوں کی دشمن ۷؎کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے نہیں ڈرتیں وہ بولی ہاں۸؎آپ سخت طبیعت اور سخت گیر ہیں ۹؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خوب اے ابن خطاب اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے شیطان تم سے نہیں ملتا کسی راستہ میں چلتا ہوا مگر وہ آپ کی راہ کے سوا دوسرے راہ چلتا ہے ۱۰؎(مسلم،بخاری)حمیدی نے کہا کہ برقانی نے یارسول اللہ کے بعدما أضحككسے زیادہ کیا ۱۱؎
شرح حدیث
۱∞؎یہ بیویاں حضور انور کی ازواج پاک تھیں: حضرت عائشہ،حفصہ،ام سلمہ،زینب بنت جحش وغیرہا۔(مرقاۃ،اشعہ)لہذا یہ اعتراض نہیں پڑسکتا کہ حضور انور سے ان عورتوں نے پردہ کیوں نہیں کیا۔
۲؎یعنی عرض یہ کرتی تھیں ہمارا خرچہ جو حضور سے ہم کو ملتا ہے وہ کم ہے زیادہ عطا ہوا کرے اس میں ہمارا گزارا نہیں ہوتا،استکثارکے معنی ہیں زیادہ مانگنا۔
۳؎یہ واقعہ یا تو اسوقت کا ہے جب کہ ابھی آیت کریمہ"لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ"الخ نہیں آئی تھی یا ان میں سے ہر ایک بی بی صاحبہ آہستہ آہستہ آواز سے بولتی تھیں مگر سب آوازیں مل کر بلند ہوتی تھی،یا یہ کہو کہ حضور کی آواز شریف پر اپنی آواز بلند کرنا یا بے ادبی سے اونچی آواز کرنا حرام ہے مطلقًا بلند آواز کرنا منع نہیں،یہ بلندی آواز حرام نہ تھی۔(مرقات)لہذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں کہ ازواج پاک حضور عالی کی بارگاہ میں اونچی آواز سے کیوں کلام کرتی تھیں کیا حضور انور کے سامنے اذان نہیں ہوتی تھی اور اونچی آواز سے ہوتی تھی مگر یہ بلندی آواز جائز تھی۔عالیۃ اصواتہنسے مراد ہے کہ وہ روزانہ عادی آواز سے زیادہ آواز بلند کیے تھیں۔
۴؎ان بیویوں میں اکثر وہ تھیں جو حضرت عمر سے اجنبی تھیں،ان سے پردہ فرض تھا جیسے حضرت صدیقہ وغیرہا اور بعض وہ بھی تھیں جو حضرت عمر کی محرم تھیں جیسے جناب حفصہ بنت عمر مگر یہ سب ہی چھپ گئیں کیوں،ہیبت فاروقی کی وجہ سے۔
۵؎یعنی یارسول اللہ اللہ تعالٰی آپ کو ہنسی خوشی رکھے میرے آقا اس وقت تبسم کی وجہ کیا ہے۔معلوم ہوا کہ شاہوں کے آستانہ میں گفتگو کرنے کا بھی سلیقہ چاہیے،دعائیں دے رہے ہیں بات کچھ نہیں کہتے کہ حضور دعائیں سن لیں مقصد خود سمجھ لیں۔
۶؎یعنی یہ بیویاں مجھ سے نہ ڈریں تم سے ڈریں۔خیال رہے کہ مقام ناز اور ہے مقام خوف دوسرا حضور پر تو گنہگاروں کو بھی ناز ہے وہاں مچلنا اور مچل مچل کر مانگنا ہی رب کو محبوب؎کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے
گنہگار نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے
۷؎یہ لفظ اس غضب کا ہے جس میں کرم شامل ہو جیسے حضور کا فرمان عقر حلق،یا پنجابی میں اوڈپڈ جانیے،یا اردو میں منڈی منڈی وغیرہ یعنی تم خرچہ زیادہ کرانے کے لیے اپنے نفع نقصان کا بھی خیال نہیں کرتیں۔حضور انور کے سامنے زیادہ بے تکلفی کبھی ضبط اعمال کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے اس لیے تم اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال رہی ہو خود اپنی دشمن ہو۔
۸؎ہاں کا تعلق صرف ایک بات سے ہے یعنی ہاں ہم آپ سے ڈرتے ہیں،یہ معنی نہیں کہ ہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے نہیں ڈرتے۔(مرقات)
۹؎یعنی آپ کے ہاں پکڑ زیادہ ہے حضور کے ہاں کرم زیادہ ہے اس لیے اے عمر تم سے ڈر لگتا ہے۔
۱۰؎اس فرمان عالی کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ تو کمزور عورتیں ہیں،تمہاری ہیبت کا تو یہ حال ہے کہ شیطان جیسا مردود سخت تر جن بھی تم سے ڈرتا ہے،تمہیں دیکھ کر بھاگتا ہے راستہ چھوڑ جاتا ہے،یہ مطلب نہیں کہ ان عورتوں کا یہ کام شیطانی تھا یا اس وقت شیطان وہاں موجود تھا جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے تو نہ بھاگا حضرت عمر سے بھاگ گیا۔
۱۱؎برقان ملک خوارزم کا ایک شہر ہے یہ محدث وہاں کے رہنے والے تھے اس لیے انہیں برقانی کہا جاتا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6036