Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6041

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهٖ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرْيَهٗ حَتّٰى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بعَطَنٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ).

وفي رواية ابن عمر قال: «ثم أخذها ابن الخطاب من يد أبي بكر فاستحالت في يده غربا فلم أر عبقريا يفري فريه حتى روي الناس وضربوا بعطن» (متفق عليه).

حدیث ترجمہ

اور حضرت ابن عمر کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا پھر اسے عمر ابن خطاب نے ابوبکر کے ہاتھ سے لے لیا ان کے ہاتھ میں چرسا بن گیا تو میں نے کوئی پہلوان نہ دیکھا جو ان کی بہادری دکھائے حتی کہ لوگ سیراب ہوگئے اور واڑہ اختیار کرلیا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی لوگ خود بھی سیراب ہوگئے اور انہوں نے اپنے جانوروں کو بھی سیراب کرلیا۔اس تعبیر میں اشارہ اس جانب ہے کہ اس سیرابی کی ابتداء حضرت صدیق اکبر سے ہوگی اور تکمیل حضرت عمر فاروق پر۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6041