Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6048

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّه صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنّٰى. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا» فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ» .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

وعن بريدة قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض مغازيه فلما انصرف جاءت جارية سوداء. فقالت: يا رسول الله إني كنت نذرت إن ردك الله صالحا أن أضرب بين يديك بالدف وأتغنى. فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن كنت نذرت فاضربي وإلا فلا» فجعلت تضرب فدخل أبو بكر وهي تضرب ثم دخل علي وهي تضرب ثم دخل عثمان وهي تضرب ثم دخل عمر فألقت الدف تحت استها ثم قعدت عليها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الشيطان ليخاف منك يا عمر إني كنت جالسا وهي تضرب فدخل أبو بكر وهي تضرب ثم دخل علي وهي تضرب ثم دخل عثمان وهي تضرب فلما دخلت أنت يا عمر ألقت الدف» .رواه الترمذي. وقال:هذاحديث حسن صحيح غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے کسی جہاد میں تشریف لے گئے ۱؎تو جب واپس ہوئے تو ایک سیاہ فام لونڈی آئی بولی یا رسول اللہ میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ آپ کو صحیح سلامت واپس لائے تو آپ کے سامنے دف بجاؤں اور گاؤں۲؎اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تو نے منت مانی ہے تو بجالے ورنہ نہیں ۳؎وہ دف بجانے لگی ابوبکر صدیق آئے وہ بجاتی رہی پھر جناب علی آئے وہ بجاتی رہی پھر جناب عثمان آئے وہ بجاتی رہی۴؎پھر حضرت عمر آئے تو اس نے دف اپنے چوتڑوں کے نیچے رکھ لی پھر اس پر بیٹھ گئی۵؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے عمر شیطان تم سے ڈرتا ہے ۶؎میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بجا رہی تھی پھر ابوبکر آئے وہ بجاتی رہی پھر علی آئے وہ بجاتی رہی پھر عثمان آئے وہ بجاتی رہی ۷؎پھر اے عمر جب تم آئے تو اس نے دف پھینک دی۸؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ وہ کون سا غزوہ تھا۔
۲
؎یہ نذر شرعی نہیں تھی کہ نذر شرعی میں ضروری ہے کہ جنس واجب سے ہو،دف بجانا اور گانا کہیں واجب نہیں۔نذر بمعنی نذرانہ عقیدت ہے ہرشخص اپنی حیثیت کے لائق ہی نذرانہ اس بارگاہ عالی میں پیش کرتا ہے اس لونڈی کے پاس یہ ہی نذرانہ تھا؎کچھ پاس نہیں میرے کیا نذر کروں تیرے
اک ٹوٹا ہوا دل ہے اور گوشہ تنہائی
۳
؎ذکر بجانے کا ہے گانے کی اجازت بھی اس میں داخل ہے۔(مرقات)یعنی گاتے بجاتے اپنے دل کے ارمان پورے کرے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی سلامتی تشریف آوری پر خوشی منانا بہترین عبادت ہے اس لیے یہ نذر درست ہوئی،نذر عبادت کی ہوتی ہے۔(مرقات و اشعہ)گناہ کی نذر درست نہیں،حضورصلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیںلا نذر فی معصیۃ۔(نسائی شریف)خیال رہے کہ جھانجھ کے ساتھ دف وغیرہ ممنوع ہے بغیر جھانجھ بلاضرورت کھیل کود کے لیے بھی ممنوع،غرض صحیح کے لیے دف تاشہ بجانا جائز ہے۔لہذا اعلان نکاح،روزے کے افطار یا سحری کے لیے یوں ہی غازیوں کے لیے دف بجانا جائز ہے، یہ دف جھانجھ سے اور لہو و لعب سے خالی تھی لہذا جائز تھی۔لونڈی پر نہ تو پردہ واجب ہے نہ اس کی آواز عورت ہے،اسے اجنبی شخص دیکھ بھی سکتا ہے اس کی آواز بھی سن سکتا ہے۔لہذا یہاں یہ اعتراض نہیں کہ حضور انور نے اجنبی عورت کو کیوں دیکھا اور اس کی آواز کیوں سنی۔نہ اس سے مروجہ ناچ گانے پر دلیل پکڑی جاسکتی ہے کہ اب آزاد عورتیں بن سنور کر گاتی ہیں، یہ حرام قطعی ہے اس حدیث سے بہت لوگ دھوکہ کھاگئے ہیں۔
۴
؎یعنی وہ لونڈی ان حضرات میں سے کسی سے نہیں ڈری برابر دف بجاتی اور گیت گاتی رہی۔
۵
؎یہ ہیبت فاروقی تھی کہ اس بی بی نے وہ کام بند کردیا جو جائز بلکہ عبادت تھا مگر لہو و لعب کی صورت میں تھا،حضرت عمر کو دیکھ کر گھبرا گئی جیسے بعض ہیبت والے آدمیوں کو دیکھ کر بیٹھے ہوئے باتیں کرنے والے لوگ ادھرادھر ہوجاتے ہیں جگہ خالی کر جاتے ہیں حالانکہ وہاں انکا بیٹھنا باتیں کرنا حرام نہیں ہوتا لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اگر یہ کام جائز تھا تو حضرت عمر کو دیکھ کر اس بی بی نے بند کیوں کردیا اور اگر حرام تھا تو پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کیوں کیا۔مگر حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہ کام ان حضرات کے لیے درست تھا حضرت عمر کے لیے درست نہ تھا اس لیے ان حضرات کے سامنے ہوتا رہا،حضرت عمر کے آنے پر بند ہوگیا کہ اب لہو و لعب بن گیا۔قوالی درد والے کے لیے درست ہے مگر جو اس زمرہ کا نہ ہو جس کے عشق پر اطاعت کا غلبہ ہو اس کے لیے درست نہیں اور اگر قوالی میں ایک شخص غیر اہل آجاوے تو سب کے لیے لہو بن جاتی ہے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔یہ واقعہ ایسا ہے جیسے حضرت عائشہ نے حریرہ بنایا اور بی بی سودہ سے کہا کہ کھاؤ انہوں نے انکار کیا آپ نے حریرہ ان کے منہ سے مل دیا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سودہ سے فرمایا کہ تم بھی عائشہ کے منہ سے مل دو انہوں نے بھی مل دیا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تبسم فرما رہے تھے وہ دونوں ہنس رہی تھیں کہ حضرت عمر نے دروازے کے باہر سے آواز دی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم دونوں جلدی اپنے منہ دھولو عمر آرہے ہیں،حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس دن سے میں جناب عمر سے ہیبت کرتی ہوں دیکھو مرقات۔
۶
؎یعنی اے عمر یہ تو ایک عورت ہے جو ایسا کام کررہی تھی جو حقیقتًا درست تھا صورۃً کھیل تھا یہ کیوں نہ ڈر جاتی تمہاری ہیبت کا تو یہ عالم ہے کہ تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے جو مردود دوسروں سے نہیں ڈرتا۔اس فرمان عالی میں نہ تو اس عورت کوشیطان فرمایا گیا اور نہ اس کے اس عمل کو شیطانی کہا گیا کہ یہ عمل حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی اجازت سے ہوا تھا لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے،یا یہ مطلب ہے کہ اب تمہارے آنے سے یہ کام غیر درست ہوگیا اور بند ہوگیا جیساکہ ابھی عرض کیا گیا۔
۷
؎یعنی ہم چاروں ہستیوں سے یہ بی بی نہ گھبرائی ہمارے رحم و کرم پر بھولی رہی گاتی بجاتی رہی۔
۸
؎اس حدیث سے بہت سے وہ مسائل حاصل ہوئے جو ابھی شرح کے ضمن میں عرض کیے گئے: (۱)حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سلامتی اور تشریف آوری کی خوشی منانا عبادت مستحبہ ہے لہذا میلاد شریف معراج شریف وغیرہ کی تاریخوں میں عید منانا خوشیاں کرنا عبادت ہے(۲)لونڈی پر پردہ نہیں(۳)لونڈی کی آواز اجنبی سن سکتا ہے(۴)دف بجانا مطلقًا منع نہیں بلکہ لہو و لعب کے لیے ہوتو منع ہے(۵)اچھے اور جائز اشعار گانا اور ان کا سننا منع نہیں(۶)حضرت صدیق و عثمان وعلی رضی اللہ عنہم پر غلبہ محبت ہے اور حضرت عمر پر غلبہ اطاعت لہذا ان حضرات کے مراتب جداگانہ ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6048