Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6044

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلٰى لِسَانِ عُمَرَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ"

وعن علي قال: ما كنا نبعد أن السكينة تنطق على لسان عمر. رواه البيهقي في "دلائل النبوة"

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ ہم خیال کرتے تھے کہ جناب عمر کی زبان پر سکینہ بولتا ہے ۱؎(بیہقی دلائل النبوۃ)

شرح حدیث

۱∞؎سکینہ کے لفظی معنی ہیں سکون قلب اور دلی اطمینان،اصطلاح میں سکینہ وہ فرشتوں کی جماعت ہے جو مؤمنوں پر مصیبت کے وقت اترتی ہے،انکے کے دل ہاتھ میں لے لیتی ہے جس سے انکے دل ٹھہر جاتے ہیں گھبراتے نہیں،رب فرماتا ہے:"هُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّكِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"اور فرماتاہے:"فَاَنۡزَلَ اللهُ سَكِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ"یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں یعنی حضرت عمر کے کلام ان کی زبان میں مسلمانوں کے دلوں کو چین ہوتا تھا یا وہ فرشتہ جسے سکینہ کہتے ہیں وہ حضرت عمر کی زبان پر بولتا تھا۔(لمعات)بعض بزرگوں کے کلام بلکہ ان کی صحبت میں دلوں کو چین نصیب ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6044