Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6050

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ:وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: قُلْتُ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى؟ فَنَزَلَتْ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى . وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ يَدْخُلُ عَلٰى نِسَائِكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ يَحْتَجِبْنَ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ عَسٰى رَبُّهٗ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ فَنَزَلَتْ كَذٰلِكَ

عن أنس وابن عمر أن عمر قال:وافقت ربي في ثلاث: قلت:يا رسول الله لو اتخذنا من مقام إبراهيم مصلى؟ فنزلت واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى . وقلت: يا رسول الله يدخل على نسائك البر والفاجر فلو أمرتهن يحتجبن؟ فنزلت آية الحجاب واجتمع نساء النبي صلى الله عليه وسلم في الغيرة فقلت عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن فنزلت كذلك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس اور ابن عمر سے کہ جناب عمر نے فرمایا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب سے موافقت کی ۱؎میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم مقام ابراہیم کو جاء نماز بنالیتے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ مقام ابراہیم جاء نماز بناؤ ۲؎اور میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ آپ کی بیویوں کے پاس بھلے برے لوگ آجاتے ہیں ۳؎مناسب تھا کہ آپ انہیں حکم دیتے کہ وہ پردہ کرلیتیں تو پردہ کی آیت نازل ہوئی ۴؎اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں غیرت کھا کر جمع ہوئیں ۵؎تو میں نے کہا کہ ممکن ہے کہ اگر وہ تم کو طلاق دے دیں تو ان کا رب انہیں تم سے اچھی بیویاں عطا فرمادے تو آیت بھی اسی طرح اتری ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎سبحان اللہ! کیسا پیارا ادب ہے یہ نہ کہا کہ رب نے میری موافقت فرمائی حالانکہ آپ کی رائے پہلے تھی نزول آیات بعد میں۔اس میں اشارۃً یہ فرمایا کہ رب کا حکم قدیم تھا میری یہ رائے احادیث ادب کی انتہا ہے۔یہاں تین کا ذکر زیادتی کی نفی کے لیے نہیں،کل پندرہ۱۵ آیتیں آپ کی رائے کے مطابق آئی ہیں۔(مرقات)بدر کے قیدیوں کے متعلق آیت،منافقوں کا جنازہ نہ پڑھنے کی آیت بھی آپ کی رائے کے مطابق آئی رضی الله عنہ۔
۲
؎یعنی میرا دل چاہتا ہے طواف کے نفل کہ ہم مقام ابراہیم کے سامنے اس طرح پڑھا کریں کہ کعبہ کی طرف نماز ہو مگر سامنے یہ پتھر بھی ہو جس پر جناب خلیل کے قدم پڑے ہیں تاکہ عین نماز میں اس پتھر کا بھی ادب ہوتا رہے تو رب تعالٰی نے اس ہی چیز کا حکم دیا کہ"وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى"آج تک طواف کے نفل اس جگہ اسی طرح ادا ہوتے ہیں یہ ہے حضرت عمر فاروق کا احترام تبرکات۔آپ کا سنگ اسود سے فرمانا کہ اے پتھر تو ایک پتھر ہے نہ نفع دے نہ نقصان،میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو تجھے چومتے دیکھا ہے اس لیے چومتا ہوں اس کا مقصد سنگ اسود کی توہین فرمانا نہیں وہاں مقصد ہی کچھ اور ہے جو ہم حج کے بیان میں عرض کرچکے ہیں،یہ بھی غلط ہے کہ حضرت عمر نے بیعت رضوان والا درخت کٹوایا وہ تبرکات کے دشمن نہ تھے،آپ تبرکات کا ایسا احترام کرتے تھے جو یہاں مذکور ہے۔
۳
؎یعنی ابھی اسلام میں پردہ کا حکم نہیں اس لیے ہر طرح کے آدمی آپ کے دولت خانہ میں آجاتے ہیں حضور کی شان اس سے ارفع واعلیٰ ہے آپ اپنی ازواج پاک کو پردہ کا حکم دیں۔
۴
؎یہاں اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ عام مؤمنہ عورتوں کا پردہ یہ ہے کہ اپنا چہرہ اجنبی کو نہ دیکھنے دیں مگر ازواج پاک کا پردہ یہ تھا کہ برقع اوڑھ کر بھی کسی اجنبی کے سامنے نہ ہوں تاکہ ان کے جسم کا اندازہ بھی کسی کو نہ ہوسکے۔(اشعۃ اللمعات)یہاں مرقات میں ہے کہ ایک بار حضور صلی الله علیہ و سلم اور جناب عائشہ صدیقہ ایک پیالہ میں حیس کھا رہے تھے،حضرت عمر حاضر ہوئے فرمایا آؤ تم بھی کھاؤ وہ کھانے لگے کہ حضرت عمر کی انگلی حضرت عائشہ کی انگلی سے چھوگئی آپ نے کہا اوہ کاش آپ کی بیویوں کو کوئی آنکھ نہ دیکھ سکتی اس پر آیت حجاب نازل ہوئی۔
۵
؎اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جناب زینب کے پاس شہد تھا حضور صلی الله علیہ و سلم کو شہد بہت مرغوب تھا،حضور صلی الله علیہ و سلم روزانہ بعد عصر ان کے پاس تشریف لے جاتے شہد ملاحظہ فرماتے تھے،حضرت عائشہ اور حفصہ وغیرہ کو اس سے بہت غیرت ہوئی کہ حضور روزانہ وہاں کیوں جاتے ہیں،انہوں نے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کو وہاں سے روکنے کے لیے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس حضور صلی الله علیہ و سلم تشریف لائیں وہ یہ کہہ دیں کہ حضور انور کے منہ شریف سے مغافیر گوند کی بو آتی ہے ان دونوں بیویوں نے یہ ہی عرض کیا،حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے اپنے پر شہد حرام فرمالیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی"یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ"وہ واقعہ یہاں مذکور ہے اس موقع پر حضرت عمر نے یہ فرمایا تھا۔
۶
؎جو الفاظ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمائے تھے انہی الفاظ میں آیت کریمہ نازل ہوئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6050