Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6040

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: « بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلٰى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ؟ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهٖ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهٗ ضَعْفَهٗ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ حَتّٰى ضَرَبَ النَّاسَ بِعَطَنٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: « بينا أنا نائم رأيتني على قليب عليها دلو؟ فنزعت منها ما شاء الله ثم أخذها ابن أبي قحافة فنزع منها ذنوبا أو ذنوبين وفي نزعه ضعف والله يغفر له ضعفه ثم استحالت غربا فأخذها ابن الخطاب فلم أر عبقريا من الناس ينزع نزع عمر حتى ضرب الناس بعطن» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جب ہم سو رہے تھے کہ میں نے اپنے کو ایک کنویں کے کنارہ پر دیکھا ۱؎جس پر ڈول تھا تو میں نے جیسا اللہ نے چاہا نکالا پھر اسے ابو قحافہ کے فرزند نے لے لیا۲؎تو اس سے ایک یا دو ڈول نکالے۳؎اور ان کے کھینچنے میں کچھ ضعف تھا ۴؎اللہ انکے ضعف کو بخشے ۵؎پھر دو چرسا بن گیا ۶؎تو اسے عمر ابن خطاب نے لے لیا میں نے لوگوں میں کسی پہلوان کو نہ دیکھا جو جناب عمر کی طرح کھینچتا ہو ۷؎حتی کہ لوگوں نے واڑہ اختیارکر لیا ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎کچی کنویں جس کی من یعنی رکاوٹ کی دیوار نہ بنی ہو قلیب کہلاتی ہے اور پکا کنواں جس کی من ہو اسے طویٰ کہتے ہیں۔ یعنی ہم ایک بغیر من والے کنویں کے کنارے پر تھے لوگ اور جانور اس کے پاس پیاسے کھڑے تھے ہم نے کچھ ڈول نکال کر انہیں پلایا۔
۲
؎ابو قحافہ حضرت ابوبکر صدیق کے والد کی کنیت ہے،ان کا نام عثمان ہے وہ حضرت ابوبکر صدیق کے بعد تک زندہ رہے۔(اشعہ)
۳
؎اس میں حضرت صدیق اکبر کی خلافت کی مدت کی کمی کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی خلافت ایک دو سال ہی ہوگی۔ حرفاوشک کے لیے نہیں،بعض نے کہا کہ یہاںاوبمعنی بلکہ ہے۔(اشعہ)
۴
؎یہاں ضعف سے مرادسستی یا کمزوری نہیں بلکہ نرمی اور مہربانی ہے حضرت صدیق اکبر فطرتًا نرم دل اور مہربان تھے۔(اشعۃ اللمعات)
۵
؎یہ دعاء مغفرت حضرت صدیق اکبر پر کرم کے اظہار کے لیے ہے جیسے کہا جاتا ہے میرا بیٹا اللہ اسے بخشے بہت اچھا ہے یا جیسے رب فرماتاہے:"لِیَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِكَ"لہذا اس سے حضرت ابوبکر کا کوئی گناہ ثابت نہیں ہوتا۔(اشعہ)حضرت ابو بکر صدیق نے اتنی تھوڑی سی مدت خلافت میں وہ کارہائے نمایاں کیے کہسبحان الله!حضرت عمر فاروق کی تمام فتوحات کی جڑ جناب صدیق ا کبر نے ہی قائم فرمائی،ملک کے اندرونی خلفشار کو آپ نے ہی دور کیا، فتوحات اسلامی کی بنیاد آپ نے ہی رکھی، آپ نے بہت ملک فتح فرمائے۔دیکھو الفاروق جس کے آخر میں فتوحات صدیقیہ کا نقشہ دیا گیا ہے آپ نے ہی جھوٹے نبیوں کو ختم مرتدین کا قلع قمع فرمایا رضی اللہ عنہ۔
۶
؎ڈول کے چرسا بن جانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کے زمانہ میں اسلامی سرحدیں بہت دور تک پہنچیں گی فتوحات بہت زیادہ ہوں گے۔
۷
؎اس قوت سے پانی نکالنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ آپ اتنے بڑے ملکوں کو فتح فرماکر ان کا انتظام سنبھال بھی لیں گے اور بڑی قوت و شوکت سے ان میں اسلام پھیلائیں گے کہ مشرق ومغرب میں آپ کی برکت سے اسلام پھیل جاوے گا۔عبقرایک جنگل کا نام تھا جس کے متعلق عرب کا خیال تھا کہ وہاں جنات رہتے ہیں۔چنانچہ ہر بہادر قوی پہلوان کو عبقری کہہ دیتے تھے کہ یہ شخص انسانی طاقت سے زیادہ کام کرتا ہے گویا یہ اس جنگل کا قوی جن ہے۔یفریبنا ہےفریسے بمعنی چمڑا کاٹنا،مشکل کام کرنے کوفریبولا جاتا ہے۔(مرقات)
۸
؎عطنعین اور ط کے فتح سے واڑا،یعنی وہ جگہ جہاں جانوروں کو کھلا پلاکر باندھا جاوے،اسے اردو میں باڑا کہتے ہیں،پنجابی میں واڑہ کہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6040