Main Icon

باب:حضرت عمر کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6053

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ الرَّجُلُ أَرْفَعُ أُمَّتِي دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ» . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللّٰهِ مَا كُنَّا نُرٰى ذٰلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَتّٰى مَضٰى لِسَبِيلِهٖ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ذاك الرجل أرفع أمتي درجة في الجنة» . قال أبو سعيد: والله ما كنا نرى ذلك الرجل إلا عمر بن الخطاب حتى مضى لسبيله. رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ یہ شخص میری امت میں جنت کے بڑے درجہ والا ہے ۱؎ابوسعید نے فرمایا الله کی قسم ہم یہ شخص حضرت عمر ابن خطاب ہی کو سمجھے رہے حتی کہ وہ اپنی راہ چلے گئے ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی کے بہت مطلب بیان کیے گئے: قوی یہ ہے کہذاك الرجلسے اشارہ حضرت خضر علیہ السلام کی طرف ہے کیونکہ حضور انور نے اس سے پہلے دجال کا ذکر فرماتے ہوئے کہا کہ ایک شخص اس سے کہے گا کہ تو کافر ہے تو وہی ہے جس کی خبر ہم کو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دی تھی،وہ دجال ان بزرگ کو آرے سے چروا کر دو ٹکڑے کردے گا پھر زندہ کر لے گا،وہ زندہ ہوکر فرمائیں گے کہ اب تو مجھے تیرے کافر ہونے کا اور بھی زیادہ یقین ہوگیا،اس کے بعد حضور انور نے یہ فرمایا کہ یہ شخص میری امت میں بڑے درجہ والا جنتی ہوگا یعنی اس زمانہ کے لوگوں میں سب سے افضل ہوگا۔(مرقات)
۲
؎یعنی ہمارا خیال یہ تھا کہ دجال سے مقابلہ والے وہ صاحب حضرت عمر ہی ہوں گے آپ کے زمانہ میں دجال نکلے گا اور آپ اس کا مقابلہ کریں گے مگر جب آپ شہید کر دیئے گئے تب ہم سمجھے کہ کوئی اورصاحب ہیں۔لہذا حدیث واضح ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ کیا حضرت عمر جناب صدیق اکبر سے بھی بڑے درجے والے ہیں۔(مرقات)اس عبارت کے اور مطلب بھی بیان کیے گئے ہیں مگر یہ مطلب آسان بھی ہے اور واضح بھی اور قوی بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6053