باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5799
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهٗ فَوَجَدَ أَبَاهُ عِنْدَ رَأْسِهٖ يَقْرَأُ التَّوْرَاةَ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا يَهُودِيٌّ أَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلٰى مُوسٰى هَلْ تَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ نَعْتِي وَصِفَتِي وَمَخْرَجِي؟» . قَالَ: لَا. قَالَ الْفَتٰى: بَلٰى وَاللّٰهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا نَجِدُ لَكَ فِي التَّوْرَاةِ نَعْتَكَ وَصِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهٖ: «أَقِيمُوا هٰذَامِنْ عِنْدِ رَأْسِهٖ وَلُّوا أَخَاكُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»
وعن أنس أن غلاما يهوديا كان يخدم النبي صلى الله عليه وسلم فمرض فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده فوجد أباه عند رأسه يقرأ التوراة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا يهودي أنشدك بالله الذي أنزل التوراة على موسى هل تجد في التوراة نعتي وصفتي ومخرجي؟» . قال: لا. قال الفتى: بلى والله يا رسول الله إنا نجد لك في التوراة نعتك وصفتك ومخرجك وإني أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم لأصحابه: «أقيموا هذامن عند رأسه ولوا أخاكم» . رواه البيهقي في «دلائل النبوة»
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ۱؎وہ بیمار ہوگیا تو اس کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی کو تشریف لائے ۲؎اور اس کے باپ کو اس کے سرہانے توریت پڑھتے پایا ۳؎تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے یہودی میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر توریت اتاری۴؎کیا تو میرے اوصاف میری نعت، میری ہجرت توریت میں پاتا ہے ۵؎کہا نہیں تو جوان بولا ہاں ۶؎یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم ہم آپ کی نعت آپ کی صفات آپ کی ہجرت توریت میں پاتے ہیں ۷؎اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواءکوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں ۸؎تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اس یہودی کو اس جوان کے پاس سے اٹھا دو اور تم اپنے بھائی کا انتظام کرو ۹؎(بیہقی دلائل النبوۃ)
شرح حدیث
۱∞؎عربی میںغلامنابالغ مگر سمجھدار بچے کو کہتے ہیں،بہت چھوٹے بچے کوصبیکہا جاتا ہے،شیر خوار کورضیعاور جس کا دودھ چھوڑا دیا جاوے اسےفطیمکہا جاتا ہے۔یہ بچہ یہودی کا تھا،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا تھا،آپ کی ہر طرح کی خدمت کرتا تھا۔معلوم ہوا کہ کافر بچوں سے خدمت لینا جائز ہے کبھی یہ خدمت و صحبت ہی ان کی ہدایت کا ذریعہ بن جاتی ہے جیساکہ یہاں ہوا۔اس بچہ اور اس کے باپ کا نام معلوم نہ ہوسکا۔
۲؎ہوا یہ کہ وہ بچہ حضور عالم کی خدمت میں حاضر نہ ہوا،لوگوں سے وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ایسا بیمار ہے کہ چل پھر نہیں سکتا تب مع صحابہ کرام خود حضور انور اس کی بیمار پرسی کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئے۔معلوم ہوا کہ کفار کی بیمار پرسی جائز ہے خصوصًا جب کہ وہ کافر تندرستی میں ہمارے پاس آتا جاتا ہو۔
۳؎معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہم لوگ اپنے مرنے والے کے پاس سورۂ یٰسین پڑھتے ہیں ایسے ہی یہوداپنے مرنے والوں کے پاس توریت پڑھاکرتے تھے وہ بچہ غالبًا قریب الموت تھا۔
۴؎اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جیسے خود قسم کھانا جائز ہے ایسے ہی دوسرے کو قسم دینا بھی جائز ہے۔ دوسرے یہ کہ جب کسی کو قسم دی جائے یا اس سے قسم لی جاوے تو قسم میں ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جس سے اس کے دل پر رعب چھاجاوے۔یہود کے نزدیک توریت شریف اور موسیٰ علیہ ا لسلام بڑے عزت و عظمت والے ہیں اور توریت کا نزول ان کے ہاں اللہ کی بڑی نعمت ہے ان وجوہ سے حضور انور نے ان الفاظ سے اسے قسم دی۔
۵؎حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سوال اس سے اقرار کرانے کے لیے ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور توریت بلکہ ساری کتب الہیہ سے واقف ہیں۔توریت و انجیل میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے کام،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حالات طیبہ حتی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سب کچھ موجود ہے۔
۶؎اس یہودی نے دیدہ دانستہ جھوٹ بولا اس نے توریت میں یہ تمام کچھ پڑھا تھا،وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نام،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سب کچھ توریت میں پڑھ چکا تھا۔
۷؎معلوم ہوتا ہے کہ یہ لڑکا اگرچہ تھا تو کم عمر مگر توریت شریف سے واقف تھا اور اس کے دل میں حضور انور کی محبت تھی، اسے یہ نعمت حضور انور کی صحبت پاک سے نصیب ہوئی تھی۔
۸؎حضور انور کے سامنے مسلمان ہوگیا کوئی اسلام و ایمان میں آتا ہے مگر اس شخص کے پاس ایمان و اسلام آیا کیونکہ جس ذات کریمہ پر ایمان لایا جاتا ہے جن کے نام سے انسان مسلمان بنتا ہے وہ خود اس کے گھر تشریف لے گئے یہ اثر صحبت پاک کا تھا۔
۹؎فرمایا یعنی اس کی تیمار داری کرو،جب یہ مرجاوے تو اس کے کفن و دفن،نماز جنازہ کا انتظام کرو۔اب اسے یہ یہودی باپ ہاتھ نہ لگائے۔اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نابالغ سمجھ دار بچے کا ایمان معتبر ہے۔دوسرے یہ کہ مرتے وقت کا ایمان قبول ہے جب کہ غر غرہ کی حالت سے پہلے ہو۔تیسرے یہ کہ اسلامی رشتہ جانی رشتوں سے قوی تر ہے کہ مؤمن کا کفن دفن اجنبی مسلمان تو کریں گے مگر اس کا باپ دادا کافر نہ کرے گا۔چوتھے یہ کہ اسلام میں نے نئے پرانے مسلمان برابر ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5799