Main Icon

باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5777

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهٗ أَسْمَاءً فَقَالَ: «أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي موسى الأشعري قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمي لنا نفسه أسماء فقال: «أنا محمد وأحمد والمقفي والحاشر ونبي التوبة ونبي الرحمة» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اپنے نام پاک بتاتے تھے فرماتے تھے کہ میں محمد ہوں میں احمد ہوں ۱؎مقفی ہوں۲؎میں حاشر ہوں میں توبہ کا نبی ہوں۳؎میں رحمت کا نبی ہوں۴؎(مسلم)

شرح حدیث

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اپنے نام پاک بتاتے تھے فرماتے تھے کہ میں محمد ہوں میں احمد ہوں ۱؎مقفی ہوں۲؎میں حاشر ہوں میں توبہ کا نبی ہوں۳؎میں رحمت کا نبی ہوں۴؎(مسلم)
۱
؎لفظ اللہ اور لفظ محمد میں چند طرح مناسبت ہے: اللہ میں حرف چار تو محمد میں حرف چار،اللہ کے چاروں حرف بے نقطہ محمد کے چاروں حرف بے نقطہ،اللہ میں ایک شد محمد میں ایک شد،اللہ کے تین حرف حرکت والے محمد کے تین حرف حرکت والے،ہاں اللہ کے شد پر الف ہے محمد کے شد پر الف نہیں،اللہ سلطان حضور اس سلطنت کے وزیر اعظم،اللہ بولنے سے دونوں ہونٹ جدا ہوتے ہیں محمد بولنے سے دونوں ہونٹ مل جاتے ہیں کہ وہ نیچوں کو اوپر والوں سے ملانے ہی تو آئے ہیں۔
۲
؎مقفیاسم فاعل سب نبیوں سے پیچھے دنیا میں آنے والا،مقفیاسم مفعول سب نبیوں تمام انسانوں ساری مخلوق سے آگے رہنے والا کہ میرے نقش قدم پر سب چلنے والے یامقفیاسم سب کی مہمانی کرنے والا کہ دنیا اس کی مہمان ہو وہ سب کا میزبان،قفاوہ کہتے ہیں لطف و کرم مہمانی کے کھانے کو۔(مرقات)
۳
؎اس طرح کہ میرے ہاتھ پر ساری خلقت نے توبہ کی اور کرے گی یا میرے دین میں توبہ آسان کردی گئی یا میری برکت میرے صدقہ سے حضرت آدم و دیگر نبیوں کی توبہ قبول ہوئی ان کی مشکلیں حل ہوئیں۔شعر
اگر نام محمد را نہ آوردے شفیع آدم نہ آدم یافتے توبہ نہ نوح از غرق نجینا
یا جو میرے دروازے پر آجاوے رب کو تواب و رحیم پائے"
لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا
۴
؎حضور کی رحمت عامہ تمام جہان پر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے دنیا میں عذا ب آنا بند ہوگئے رحمت خاصہ مؤمنوں پر رحمت خاص الخاصہ ولیوں،صدیقوں بلکہ گذشتہ نبیوں پر بھی ہے،اللہ رب العالمین ہے حضور رحمۃ للعالمین،حضور مؤمنوں پر رؤف ورحیم۔شعر
رب اعلٰی کی نعمت پر اعلی درود حق تعالٰی کی منت پہ لاکھوں سلام
حضور کی رحمت کا پورا بیان ناممکن ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5777