Main Icon

باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5790

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، ضَخْمَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيِةِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ مُشْرَبًا حُمْرَةً ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ طَوِيلَ المَسْرُبَةِ إِذا مَشٰى تَكَفَّأ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ مِثْلَهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عن علي بن أبي طالب قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس بالطويل ولا بالقصير، ضخم الرأس واللحية شثن الكفين والقدمين مشربا حمرة ضخم الكراديس طويل المسربة إذا مشى تكفأ تكفؤا كأنما ينحط من صبب لم أر قبله ولا بعده مثله صلى الله عليه وسلم. رواه الترمذي وقال: هذاحديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی ابن ابی طالب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے ۱؎اور نہ پستہ قد بڑے سر اور داڑھی والے۲؎موٹی ہتھیلیاں اور موٹے قدم ۳؎سرخی پلائے ہوئے ۴؎موٹے جوڑوں والے۵؎دراز بالوں کی ڈوری ۶؎جب چلتے تو قوت سے چلتے گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں ۷؎میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل نہ تو آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد ۸؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی۔

شرح حدیث

۱؎اس کی شرح پہلے گزر گئی کہ حضور انور کا قد شریف مائل بہ درازی تھا مگر دراز قد نہ تھے۔
۲
؎یعنی حضور انور کی داڑھی شریف نہ تو کچی تھی جو صرف ٹھوڑی پر ہوتی ہے بلکہ بھرا خط تھا اور نہ آپ کٹواتے تھے بلکہ پوری ایک مشت یعنی چار انگل رکھتے تھے لہذا یہ حدیث اس حدیث شریف کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضور انور داڑھی کو اطراف سے لیتے تھے۔اس کی تفسیر حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا وہ عمل ہے کہ آپ اپنی داڑھی شریف مٹھی سے پکڑتے جو حصہ مٹھی سے باہر ہوتا اسے کٹوا دیتے تھے۔تمام انبیاءکرام گھنی داڑھی والے تھے،حضورانورکی داڑھی شریف بھی گھنی اور بڑی تھی ایک مشت۔
۳
؎یعنی ہتھیلیاں اور تلوے بھرے ہوئے یہ بڑا حسن ہے۔
۴
؎مشربباب افعال کا مفعول ہے جس کے معنی ہیں سفیدی میں کچھ تھوڑی سرخی پلائی ہوئی۔بالکل سرخ رنگ بھی اچھا نہیں اور سرخی میں سفیدی کی جھلک بھی حسن نہیں بلکہ سفیدی میں سرخی کی جھلک اعلٰی حسن ہے۔اس حسن کا نام ملاحت ہے یعنی نمکین حسن،پچھلے دو حسنوں کو صباحت کہا جاتاہے۔
۵
؎کرادیسجمع ہےکردوسکی،اس کے معنی ہیں جوڑ جہاں دو ہڈیاں جڑتی ہیں جیسے کندھے،گھٹنے،کلائی،کہنی وغیرہ۔ ہڈیوں کے کناروں کو بھی کردوس کہتے ہیں،یہ اگر موٹے ہوں تو اعضاء میں طاقت و قوت پوری ہوتی ہے۔
۶
؎مشربہبالوں کی وہ پتلی دوڑی جو سینہ کے کنارہ سے ناف تک ہوتی ہے یہ کسی کے ہوتی ہے کسی کے نہیں۔یہ ڈوری علامت ہے وفاداری کی اگر سینہ بالوں سے ننگا ہو تو آدمی اکثر بے وفا مطلبی ہوتا ہے۔
۷
؎یعنی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی چال میں ضعف بھی نہ تھا اور تکبر بھی نہیں،قوت والی تواضع والی چال تھی،سرجھکا ہوا قدم پوری طاقت سے اٹھتا پوری طاقت سے زمین پر پڑتا تھا۔یہ لفظ بنا ہےکفوسے بمعنی قدم پر اعتماد۔
۸
؎یہاںقبلہٗسے مراد ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے اوربعدہٗسے مراد حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کیونکر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریف سے پہلے کا زمانہ دیکھا ہی نہیں آپ حضور انور سے قریبًا تیس سال چھوٹے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5790