Main Icon

باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5796

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن جابر بن سمرة قال: كان في ساقي رسول الله صلى الله عليه وسلم حموشة وكان لا يضحك إلا تبسما وكنت إذا نظرت إليه قلت: أكحل العينين وليس بأكحل. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں میں کچھ باریکی تھی ۱؎اور نہ ہنستے تھے مگر مسکراہٹ سے۲؎اور میں جب حضور کو دیکھتا تو کہتا تھا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں حالانکہ آپ سرمہ لگائے نہ ہوتے تھے۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں بہت موٹی نہ تھیں جو بدنما ہوتی ہیں بلکہ قدرے پتلی تھیں جن سے کمزوری کا نہیں بلکہ لطافت کا ظہور ہوتا ہے،بہت پتلی بھی نہ تھیں جو دوسرے اعضاء کے مناسب نہ ہوں اور اچھی نہ معلوم ہوں۔ (مرقات)
۲
؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹھٹھا مار کر ہنسنا کبھی ثابت نہیں۔بہت ہنسنا دل کو غافل کردیتا ہے،مسکرانے سے اپنا دل بھی خوش ہوتا ہے سامنے والے کا دل بھی موہ لیتا ہے۔
۳
؎یعنی حضور پیدائشی طور پر سرمگیں آنکھیں والے تھے پھر بھی سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی سرمہ لگاتے تھے اگر کبھی سرمہ نہ بھی لگاتے تو وہ قدرتی سرمہ جو رب تعالٰی نے لگا کر دنیا میں بھیجا تھا وہ نمودار ہوتا تھا۔حضور انور قدرتی طورپر ناف بریدہ ختنہ شدہ سرمہ و شانہ کیے ہوئے پیدا ہوئے ولادت پاک اس طرح ہوئی تھی۔شعر
بالوں میں شانہ آنکھوں میں سرمہ دیا ہوا لپٹے ہوئے حریر میں ختنہ کیا ہوا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5796