باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5782
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ بَعَثَهُ اللّٰهُ عَلٰى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللّٰهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهٖ وَلِحْيَتِهٖ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ وَفِي رِوَايَةٍ يَصِفُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ. وَقَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: كَانَ ضَخْمَ الرَّأْسِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهٗ وَلَا قَبْلَهٗ مِثْلَهٗ وَكَانَ سَبْطَ الكفَّينِ.وَفِي أُخْرٰى لَهٗ قَالَ:كَانَ شَثْنَ الْقَدَمَيْنِ وَالْكَفَّيْنِ
وعن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس بالطويل البائن ولا بالقصير وليس بالأبيض الأمهق ولا بالآدم وليس بالجعد القطط ولا بالسبط بعثه الله على رأس أربعين سنة فأقام بمكة عشر سنين وبالمدينة عشر سنين، وتوفاه الله على رأس ستين سنة وليس في رأسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء وفي رواية يصف النبي صلى الله عليه وسلم قال: كان ربعة من القوم ليس بالطويل ولا بالقصير أزهر اللون. وقال: كان شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أنصاف أذنيه وفي رواية: بين أذنيه وعاتقه. (متفق عليه) وفي رواية للبخاري قال: كان ضخم الرأس والقدمين لم أر بعده ولا قبله مثله وكان سبط الكفين.وفي أخرى له قال:كان شثن القدمين والكفين
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے ۱؎اور نہ بالکل پست قد۲؎اور نہ خالص سفید رنگ تھے ۳؎اور نہ گندمی رنگ نہ تو چھلے دار بالوں والے تھے اور نہ بالکل سیدھے بال والے۴؎اللہ نے انہیں نبی بھیجا سرے پر چالیس سال کی عمر شریف کے ۵؎مکہ میں دس سال رہے اور مدینہ میں دس سال ۶؎اللہ نے آپ کو وفات دی ساٹھ سال کے کنارے پر۷؎اس وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے ۸؎اور ایک روایت میں انس رضی اللہ عنہ حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ شریف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ قوم میں درمیانہ قد تھے نہ بہت دراز اور نہ پست قد ۹؎چمکدار رنگت ۱۰؎اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال شریف آپ کے آدھے کانوں تک تھے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے ۱۱؎(مسلم،بخاری)اور بخاری کی روایت میں ہے کہ انس نے کہا کہ حضور بھاری سر۱۲؎اور بھاری قدم والے تھے۱۳؎میں نے آپ جیسا حسین نہ آپ کے بعد دیکھا نہ آپ سے پہلے۱۴؎آپ کشادہ ہتھیلی تھے۱۵؎بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور بھاری قدم بھاری ہاتھوں والے تھے ۱۶؎
شرح حدیث
۱∞؎بائنبنا ہےبونسے بمعنی دوری اسی سے ہے طلاق بائنہ،یہاں بائن سے مراد ہے بہت زیادتی جو حد اعتدال سے دور ہو یعنی حضور انور اتنے دراز قد نہ تھے کہ حد اعتدال سے دور ہوں۔۲؎اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور مائل بہ درازی تھے کیونکہطویلکے ساتھبائنکی قید بیان ہوئی اورقصیرمطلق بغیر قید کے فرمایا۔
۳؎بلکہ آپ کا رنگ شریف سفید مائل بہ سرخی تھا یا سرخی پیلا ہوا سفید جو کہ بہت ہی حسین ہوتا ہے۔
۴؎یعنی حضور کے بال شریف نہ تو حبشہ والوں کی طرح بالکل چھلے دارمٹھے ہوئے تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ بال سیدھے کناروں پر خم دار تھے ایسے بال بہت حسین معلوم ہوتے ہیں۔
۵؎سرے سے مراد آخری کنارہ ہے۔حضور انور کی نبوت کا ظہور چالیس سال کی عمر شریف میں ہوا جب آپ کا سنہ شریف پورے چالیس سال کا ہوچکا تھا۔
۶؎تمام کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور انور کی نبوت کا ظہور چالیس سال کی عمر شریف میں ہوا،اس پر بھی سب متفق ہیں کہ بعد ہجرت مدینہ منورہ میں قیام دس سال رہا مگر اس میں اختلاف ہے کہ ظہور نبوت کے بعد ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں کتنا قیام رہا دس سال،تیرہ سال،پندرہ سال۔قوی یہ ہے کہ تیرہ سال قیام رہا لہذا عمر شریف کل تریسٹھ سال ہوئی ساٹھ یا پینسٹھ سال نہیں یہاں دس سال والی روایت ہے۔
۷؎مرقات نے یہاں فرمایا کہ ساٹھ والی روایت میں دہائی لی گئی ہے تین جو کسر تھی وہ چھوڑ دی گئی اور پینسٹھ سال والی روایت میں ولادت اور وفات کے سال شامل کرلیے گئے ہیں ورنہ عمر شریف تریسٹھ سال ہے اور یہ دونوں روایات اس کے خلاف نہیں۔
۸؎بعض روایات میں ہے کہ سر مبارک داڑھی شریف اور ریش بچی سب میں ملاکر بیس بال سفید تھے،بعض میں ہے کہ کل چودہ بال سفید تھے،یہ روایت چودہ بالوں والی ہے شمار میں اختلاف ہوسکتا ہے،اس روایت میں ہے کہ سر مبارک میں چودہ بال سفید تھے،داڑھی شریف میں پانچ بال اور ریش بچی میں ایک بال سفید۔
۹؎پہلے گزر چکا کہ حضور انور درمیانہ قد تھے مائل بہ درازی یہ قد بہت حسین ہوتا ہے۔
۱۰؎رنگت سفید جس میں سرخی پلائی ہوئی اور وہ جگمگاتی ہوتی تھی یہ حسن کی انتہا ہے۔
جس سے تاریک دل جگمگانے لگے اس چمک دار رنگت پہ لاکھوں سلام
۱۱؎بالوں کی درازی میں چار روایتیں ہیں: نصف کان تک،کانوں کی گدیوں تک،کانوں اور کندھوں کے درمیانی تک، کندھوں تک،ان میں تعارض نہیں کبھی تابگوش کبھی تابدوش مختلف اوقات میں مختلف حالات تھے۔حضور انور بال کٹواتے تھے اور سواء حج وعمرہ کے کبھی منڈواتے نہیں تھے۔
۱۲؎چھوٹا سر کم عقلی کی علامت ہوتی ہے اور بہت بڑا سرحسین نہیں ہوتا درمیان سر قدرے بڑا بہت حسین ہے وہ ہی یہاں مراد ہے۔شعر
ہر چہ اسباب جمال است رخ خوب ترا ہمہ بروجہ کمال استکما لایخفی(۱شعہ)
۱۳؎بھاری قدم بہادری ثابت قدمی اور عبادت میں طاقت کی دلیل ہیں،پتلے دبلے قدم کمزوروں کی علامت ہے،یوں ہی تلوے اندر کو دھنسے ہونا حسن کے خلاف ہے کہ زمین پر صرف کنارہ قدم لگے باقی الگ رہیں پورا قدم زمین کو لگے، بھرے قدم ہوں یہ حسن ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قدم شریف ایسے ہی تھے۔اعلٰی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں۔شعر
دل کرو ٹھنڈا مرا وہ کف پا چاند سا سینہ پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود
۱۴؎یعنی آپ کا حسن کما حقہٗ میں بیان نہیں کرسکتا بس اتنا سمجھ لو کہ میری آنکھوں نے نہ آپ سے پہلے حسین دیکھا نہ آپ کے بعد۔حضرت انس کی آنکھ تو کیا دیکھتی جناب جبرئیل امین کی آنکھوں نے ایسا نہ دیکھا۔شعر
معراج میں جبرئیل سے کہنے لگے شآهِ امم تم نے تو دیکھے ہیں بہت بتلاؤ تو کیسے ہیں ہم
روح الامین کہنے لگے اے مہ جبین تیری قسم آفاقہا گردیدہ ام مہر بتاں درزیدہ ام
بسیار خوباں دیدم ام لیکن تو چیزے دیگری
۱۵؎کشادہ ہتھیلی علامت ہے جودوسخا کی حضور جیسا سخی پیدا نہ ہوا نہ ہوگا۔عرب کہتے ہیں عبدالکف بخیل و سبط الکف جواد تنگ ہتھیلی والا کنجوس ہوتا ہے،وسیع ہتھیلی والا سخی داتا۔
۱۶؎خیال رہے کہ حضور انور کے دستِ مبارک قدم شریف تھے تو بھاری مگر کھال مبارک نہایت نرم تھی جیساکہ روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء ریشم سے بھی زیادہ نرم تھے۔نرمی اور چیز ہے بھاری ہونا کچھ اور یہ بھی خیال رہے کہ ہاتھ پاؤں بھاری ہونا مردوں میں ہنر ہے عورتوں میں عیب ہے کیونکہ مردوں کے مضبوط اعضاء بہادری کی علامت ہیں عورتوں کے اعضاء نازک چاہئیں۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5782