Main Icon

باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5778

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللّٰهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ؟ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تعجبون كيف يصرف الله عني شتم قريش ولعنهم؟ يشتمون مذمما ويلعنون مذمما وأنا محمد . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ اللہ نے کس طرح مجھ سے قریش کی گالیوں،ان کے لعن کو پھیر دیا وہ تو مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور مذمم پر لعن طعن کرتے ہیں ہم تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎پہلے کفار مکہ حضور انور کا نام شریف لے کر آپ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتے تھے،ابولہب کی بیوی عورا بنت حرب نے کہا کہ تم لوگ محمد کہنا بھی چھوڑ دو کہ اس نام میں ان کی تعظیم ہے انہیں مذمم کہا کرو یعنی بہت ہی برے اب وہ لوگ مذمم کہہ کر گالیاں دینے لگے،اس پر حضور انور نے یہ فرمایا کہ وہ مذمم کو برا کہتے ہیں ہوگا کوئی مذمم ہم تو محمد ہیں۔اللہ نے آپ کے نام کو بھی گستاخی سے بچالیا۔جو حضور کو محمد کہہ کر گستاخی کرے وہ اپنے منہ سے خود جھوٹاہے،محمد وہ جو بے عیب ہو اورتو اسے عیب لگارہا ہے،یہ مردودہ فخریہ کہا کرتی تھی۔مذمما عصينا وأمره أبينا ودينه قلينا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5778