باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5791
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ كَانَ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ جَلِيلُ الْمَشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبةٍ شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشٰى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ أَجْوَدُ النَّاسِ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً وَأَكْرَمُهُمْ عَشِيرَةً مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهٗ وَمَنْ خَالَطَهٗ مَعْرِفَةً أَحَبَّهٗ يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ مِثْلَهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وعنه كان إذا وصف النبي صلى الله عليه وسلم قال: لم يكن بالطويل الممغط ولا بالقصير المتردد وكان ربعة من القوم ولم يكن بالجعد القطط ولا بالسبط كان جعدا رجلا ولم يكن بالمطهم ولا بالمكلثم وكان في الوجه تدوير أبيض مشرب أدعج العينين أهدب الأشفار جليل المشاش والكتد أجرد ذو مسربة شثن الكفين والقدمين إذا مشى يتقلع كأنما يمشي في صبب وإذا التفت التفت معا بين كتفيه خاتم النبوة وهو خاتم النبيين أجود الناس صدرا وأصدق الناس لهجة وألينهم عريكة وأكرمهم عشيرة من رآه بديهة هابه ومن خالطه معرفة أحبه يقول ناعته: لم أر قبله ولا بعده مثله صلى الله عليه وسلم. رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے کہ آپ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ شریف بیان کرتے تو فرماتے تھے ۱؎کہ نہ تو آپ بہت ہی دراز قد تھے اور نہ بہت ہی پستہ قد ۲؎قوم میں درمیانہ قد تھے اور نہ تو آپ چھلے والے گھونگر بال تھے اور نہ بالکل سیدھے بال والے آپ کے بال خمدار تھے۳؎اور نہ آپ بہت موٹے تھے۴؎نہ بالکل گول چہرے والے آپ کے چہرے میں قدرے گولائی تھی سفید رنگ تھے سرخی پلائی ہوئی خوب کالی آنکھیں دراز پلک ۵؎موٹی ہڈیوں والے موٹے کندھوں والے ۶؎جسم شریف صاف ۷؎بالوں کی باریک ڈوری موٹی ہتھیلیاں موٹے موٹے قدم جب چلتے تو پوری طاقت سے چلتے گویا آپ گہرائی میں اُتر رہے ہیں ۸؎اور جب اِدھر اُدھر توجہ کرتے تو پوری توجہ کرتے ۹؎آپ کے کندھوں کے بیچ مہر نبوت تھی اور آپ خاتم النبیین ہیں ۱۰؎لوگوں میں سخی دل لوگوں میں بہت سچی بات والے ان میں نہایت نرم طبیعت والے اور ان میں بہت اچھے برتاؤ والے تھے۱۱؎جو آپ کو اچانک دیکھتا تو آپ سے ہیبت کرتا اور جو آپ سے خلا ملا کرتا جان کر تو آپ سے محبت کرتا۱۲؎آپ کا نعت گو کہتا تھا کہ میں نے آپ کی مثل نہ آپ کے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد صلی اللہ علی وسلم۱۳؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎یہاں وصف سے مراد ہے صورت پاک کی صفات بیان کرنا یعنی حلیہ شریف۔حضور انور کی نعت شریف چند قسم پر ہے: حضور کے نور کا بیان،صورت کا بیان،سیرت و اخلاق کا بیان،گھر والوں سے برتاوے کا بیان،مخلوق سے تعلق کا بیان،رب کی عبادات کا بیان،بندوں سے معاملات کا بیان،حضور کی جود وسخا و کرم نوازیوں کا بیان غرضکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حال ہر کمال لازوال کی تعریفیں دریا ناپیدا کنار ہیں۔
زفرق تابہ قدم ہر کجا کہ مے نگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا است
۲؎ممغطبمعنی ممدود ہے باب افعال کا اسم مفعول ہے یعنی انتہائی دراز لمبے،اور متردد بمعنی انتہائی ہے یعنی بہت ہی پستہ قد۔ (مرقات)
۳؎حضور انور کے بال شریف سیدھے اور کناروں پر خم دار تھے اسے اردو میں کنڈل والے بال کہتے ہیں۔یہ بہت ہی حسین ہوتے ہیں حضور کے بال،کھال،خدو خال،رخسار،گفتار،کردار سب ہی حسین تھے،حضور حسن کے مرکز ہیں جہاں سے حسن تقسیم ہوتا ہے۔
۴؎مطہمبہت موٹے کو بھی کہتے ہیں اور بہت دبلے کو بھی یہ لفظ دو ضدوں کے لیے وضع کیا گیا ہے یعنی جیسے حضور انور میانہ قد تھے نہ بہت دراز نہ بہت پستہ قد یوں ہی حضور میانہ جسم تھے نہ بہت بھاری نہ بہت پتلے جسم والے۔ (مرقات)
۵؎اذعجوہ آنکھ ہے جس کی سفیدی بھی تیز ہو اور پتلی کی سیاہی بھی خوب تیز ہو یہ آنکھ کا بہت حسن ہے،گدلی سفیدی یا بھوری پتلی حسن کے خلاف ہیں،لمبے پلک حسن ہے پلکوں کا چھوٹا ہونا یا بالکل نہ ہونا حسن کے خلاف ہے۔
۶؎جلیلبمعنی موٹے یا بھاری،مشاشہڈیوں کا کنارہ کندھوں کا کنارہ یا کندھے۔
۷؎یعنی کلائیوں پنڈلیوں وغیرہ پر بہت بال نہ تھے۔خیال رہے کہ یہ اعضاء شریفہ بالوں سے بالکل خالی نہ تھے جیساکہ دوسری روایت میں ہے۔(مرقات)
۸؎صبببلندی کو بھی کہتے ہیں اور نشیبی زمین کو بھی،پہلےصبببمعنی بلندی گزر چکا یہاں بمعنی گہرائی ہے۔انسان چڑھتے اترتے دونوں حالتوں میں خوب طاقت سے چلتا ہے لہذا دونوں فرمان بالکل درست ہیں کہ سرکار کی رفتار بہت طاقت سے ہوتی تھی جیسے چڑھتے یا اترتے وقت چلا جاتا ہے۔
۹؎یعنی اپنے داہنے بائیں کنکھیوں سے نہ دیکھتے تھے بلکہ ادھر دیکھنا ہوتا تو ادھر گھوم کر دیکھتے تھے پوری توجہ سے۔
۱۰؎مہر نبوت کی تفصیل پہلے گزرگئی یہ مہر خاتم النبیین ہونے کی علامت تھی اسی لیے کسی نبی کو یہ معجزہ عطا نہیں ہوا کیونکہ ان میں کوئی صاحب خاتم النبیین نہ تھے۔
۱۱؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا برتاوا اپنے پرایوں سے بہت ہی اچھا تھا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کسی کو تکلیف نہ پہنچی،جب کسی پر سختی کی تو اللہ کے لیے جیسے جہاد پر کفار مجرمین کو سزائیں۔
۱۲؎معلوم ہوا کہ چہرہ انور میں وقار رعب دبدبہ اور ہیبت تھی کہ جو اچانک دیکھتا تو مرعوب ہوجاتا مگر اخلاق کریمانہ ایسے تھے کہ چند روز حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر رہتا تو آپ سے مانوس ہوجاتا،اب بھی روضہ انور پر ہیبت ہے پہلی بار حاضری پر دل تھرا جاتا ہے پھر وہاں سے ہٹنے کو دل نہیں چاہتا حتی کہ وداع کے وقت آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔شعر
بدن سے جان نکلتی ہے آہ سینے سے ترے فدائی نکلتے ہیں جب مدینے سے
روضہ اچھا زائر اچھے اچھی راتیں اچھے دن سب کچھ اچھا ایک رخصت کی گھڑی اچھی نہیں
۱۳؎حضرات صحابہ کرام تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی مثل کیا دیکھتے حضرت جبریل علیہ السلام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا مثل نہ دیکھا،دیکھتے کیسے خدا نے حضور کا مثل بنایا ہی نہیں۔حضور انور کی بے مثالی کا مسئلہ ہم نے تفسیرنعیمی پارہ اول میں"اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ"کی تفسیر میں کچھ تفصیل سے عرض کیا ہے جسے کہتے ہیں مسئلہ امتناع النظیر۔ حضور کا مثل ناممکن ہے۔خیال رہے کہ آیت کریمہ"اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ"سے مراد یہ ہے کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں اس چیز میں مثل کہ خالص بندہ ہوں مجھ میں الوہیت کا شائبہ نہیں،نہ خدا ہوں،نہ خدا کا جز،نہ خدا کا بیٹا بھائی وغیرہ بلکہ خالص بندہ ہوں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیںایکم مثلیتم میں مجھ جیسا کون ہے یعنی کوئی نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5791