Main Icon

باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5792

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْلُكْ طَرِيقًا فَيَتْبَعُهٗ أَحَدٌ إِلَّا عَرَفَ أَنَّهٗ قَدْ سَلَكَهٗ مِنْ طِيبِ عَرْفِهٖ أَوْ قَالَ: مِنْ رِيحِ عَرَقِهٖ رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يسلك طريقا فيتبعه أحد إلا عرف أنه قد سلكه من طيب عرفه أو قال: من ريح عرقه رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چلتے تھے کوئی راستہ پھر پیچھے آتا کوئی ۱؎مگر وہ پہچان جاتا تھا کہ یہاں سے حضور گزر رہے ہیں آپ کی اعلٰی مہک کی وجہ سے یا کہا آپ کے پسینہ کی خوشبو سے ۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎پیچھے سے مراد یہ نہیں کہ فورًا آپ کے بعد کوئی آتا بلکہ دیر تک گلی کوچہ میں خوشبو رہتی تھی کہ اگر کچھ دیر کے بعد بھی کوئی ادھر سے گزرتا تو پہچان لیتا کہ پہلے یہاں سے حضور گزرے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔۲؎یہ راوی کو شک ہے کہ حضرت جابر نےعرفہفرمایا ف سے یاعرقہکہا قاف سے۔عرف جسم کی ذاتی مہک یا خوشبو کو کہتے ہیں،عرققاف سے بمعنی پسینہ۔یعنی خوشبو ملے ہوئے عطر کی وجہ سے نہ ہوتی تھی بلکہ خود جسم پاک میں خوشبو تھی یا پسینہ معطر میں مگر عرف زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مہک تو دائمی تھی اور پسینہ صرف گرمی کے موسم میں آتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5792