باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5781
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ فَقَالَ: «ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ» فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهٖ فَأَلْبَسَهَا. قَالَ: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي» وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ. فَقَالَ: «يَا أُمَّ خَالِدٍ هٰذَاسِنَاهْ» وَهِيَ بِالْحَبَشِيَّةِ: حَسَنَةٌ. قَالَتْ: فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَزَبَرَنِي أَبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "دَعْهَا" رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن أم خالد بنت خالد بن سعيد قالت: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بثياب فيها خميصة سوداء صغيرة فقال: «ائتوني بأم خالد» فأتي بها تحمل فأخذ الخميصة بيده فألبسها. قال: «أبلي وأخلقي ثم أبلي وأخلقي» وكان فيها علم أخضر أو أصفر. فقال: «يا أم خالد هذاسناه» وهي بالحبشية: حسنة. قالت: فذهبت ألعب بخاتم النبوة فزبرني أبي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "دعها" رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے جناب ام خالد بنت خالد ابن سعید سے ۱؎فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں کالی چھوٹی سی کملی بھی تھی ۲؎تو فرمایا ام خالد کو لاؤ چنانچہ انہیں لایا گیا گود میں اٹھا کر۳؎تو حضور نے وہ کملی اپنے ہاتھ میں لی انہیں پہنائی فرمایا پرانی کرو اور پھاڑو پھر پرانی کرو اور پھاڑو ۴؎اس میں ہرے یا پیلے بیل بوٹے تھے تو فرمایا اے ام خالد یہ بہت اچھے ہیں،سناہ حبشی زبان میں اچھے کو کہتے ہیں ۵؎فرماتی ہیں میں حضور کی مہر نبوت سے کھیلنے لگی۶؎تو مجھے میرے والد نے ڈانٹا ۷؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو ۸؎(بخاری)
شرح حدیث
؎ام خالد بھی صحابیہ ہیں اور ان کے والد ابن سعید بھی صحابی ہیں،خالد ابن سعید ابن عاص اموی بڑے پرانے مؤمن ہیں،آپ چوتھے مسلمان ہیں،آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مناظرہ کرتے تھے کہ ہم دونوں میں پہلے اسلام کون لایا،ام خالد اپنی کنیت میں مشہور ہیں،آپ حبشہ میں پیدا ہوئیں،بچپن ہی میں مدینہ منورہ لائی گئیں،ان سے حضرت زبیر ابن عوام نے نکاح کیا۔ (مرقات،اشعہ،اکمال)
۲؎خمیصہمربع کمبل کو کہتے ہیں جس کے کنارے منقش ہوں۔شاید یہ کپڑے مال غنیمت میں آئے تھے یا کسی جگہ سے ہدیہ، حضور انور نے صحابہ کرام میں تقسیم فرمائے اس چھوٹی سی کملی کے لیے نظر انتخاب ان چھوٹی سی صحابیہ پر پڑی۔
۳؎ام خالد کے والد انہیں گود میں اٹھا کر لائے کیونکہ اس وقت آپ بہت کمسن بچی تھی۔
۴؎یعنی اے ام خالد جیتی جاگتی رہو تمہاری عمر دراز ہو تم اس کملی کو پرانی کرکے پھاڑو اس کے بعد اور کپڑے پرانے کرتی پھاڑتی رہو،بعض روایات میں ہے کہ یہ دعا تین بار دی۔
۵؎چونکہ ان کے والد خالد بن سعید اولًا ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تھے وہاں ام خالد پیدا ہوئیں وہاں کی زبان سیکھ گئیں اس لیے حضور انور نے ان سے حبشی زبان کا کلمہ ارشاد فرمایاسناہ،مدینہ منورہ کی زبانحسنہنہ فرمایا۔
۶؎بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ ہر نئی اور عجیب چیز کو چھوتے چھیڑتے چٹکی سے دباتے ہیں میں بھی مہر نبوت شریف سے یہ ہی حرکت کرنے لگی۔
۷؎اور کہا کہ بیٹی ایسی بے ادبی نہ کرو ادب سے بیٹھو۔خیال رہے کہ حضور انور کی قمیض کا گریبان سینہ پر نہ تھا بلکہ گردن کے دونوں طرف چاک تھا جن میں ایک ایک بٹن لگا ہوا تھا وہ بٹن اکثر کھلے رہتے تھے،ام خالد نے اپنا ننھا سا ہاتھ ان چاکوں کے اندر ڈال دیا اور مہر نبوت شریف کو مس کرنے لگیں۔کاش وہ پورے وہ انگلیاں ہم کو ان کی زیارت میسر ہوتی تو ہم چوم کر آنکھوں سے لگاتے۔شعر
ہوتے صدقے کبھی ناقہ کے کبھی محمل کے ساربان کے کبھی ہاتھوں کی بلائیں لیتے
دشت طیبہ میں ترے ناقہ کے پیچھے پیچھے دھجیاں جیب و گریبان کی اڑاتے جاتے
اس گنہگار فقیر احمد یار نے اپنی داڑھی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پائنتی شریف کی چوکھٹ جھاڑی ہے،خدا کرے یہ داڑھی جو اس آستانہ کی جھاڑو بنی ہے میری بخشش کا ذریعہ بن جائے۔
۸؎یعنی اس بچی کو اپنا کام کرنے دو اسے اس کام سے برکت حاصل ہورہی ہے کبھی یہ اپنے پوروں اپنی ان انگلیوں پر ناز کیا کرے گی اسے آج دوہری برکتیں نصیب ہیں ہماری چادر کا عطیہ اور مہر نبوت سے مس۔حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی نے اس حدیث سے بزرگوں کے خرقے ان کا پہننا،ان سے برکت لینا ثابت فرمایا کہ مؤمنوں کے ان اعمال کی اصل یہ حدیث ہے۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5781