Main Icon

باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5786

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ رَسُول الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهٗ لَمْ يَبْلُغْ مَا يُخْضَبُ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهٖ فِي لِحْيَتِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأْسِهٖ فَعَلْتُ.

وعن ثابت قال: سئل أنس عن خضاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إنه لم يبلغ ما يخضب لو شئت أن أعد شمطاته في لحيته (متفق عليه) وفي رواية: لو شئت أن أعد شمطات كن في رأسه فعلت.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثابت سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت انس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا ۲؎تو فرمایا کہ اس حد کو نہ پہنچے کہ خضاب لگاتے ۳؎میں اگر چاہتا تو آپ کے سفید بال جو داڑھی شریف میں تھے گن لیتا ۴؎اور ایک روایت میں ہے کہ اگر میں ان سفید بالوں کو گننا چاہتا جو آپ کے سر شریف میں تھے تو ایسا کرلیتا ۵؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا کہ کچھ سفیدی آپ کی ریش بچی اور کنپٹیوں میں تھی اور سر شریف میں کچھ معمولی سا حصہ ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام ثابت ابن اسلم ہے،بنانی ہیں،کنیت ابو محمد ہے،تابعی ہیں،بصری ہیں،حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ چالیس برس رہے،بصرہ میں وفات پائی۔(مرقات)
۲
؎سوال یہ تھا کہ حضور انور نے سر شریف یا داڑھی مبارک میں خضاب لگایا یا نہیں اگر لگایا تو کس رنگ کا اور کس چیز سے۔خضاببنا ہےخضبسے بمعنی رنگنا،سیاہ خضاب ممنوع ہے سرخ خضاب بہتر ہے۔
۳
؎یعنی حضور انور کے سر یا داڑھی شریف کے بال اتنے سفید نہ ہوئے جن میں خضاب لگایا جاسکتا صرف چند بال سفید ہوئے تھے۔یہاں شیخ نے فرمایا کہ سفید بال تو بہت تھوڑے تھے کچھ بال سرخ ہوگئے تھے یعنی سفید ہونے والے تھے کہ وفات شریف واقع ہوگئی اس پر حدیث پیش کیوکان مثیبہ احمروہ سرخی بھی قابل خضاب نہ ہوتی۔
۴
؎شمطاتجمع ہےشمطکیشمطشین کی فتح میم کے سکون سے سفید اور میم کے بھی فتح سے ہو تو سیاہی سفیدی سے مخلوط، یہاں پہلے معنی ہیں یعنی سفید بال داڑھی شریف میں پانچ بال سفید تھے۔
۵
؎یعنی سر شریف میں بھی گنتی چنتی کے بال شریف سفید تھے اور داڑھی شریف میں بھی سر شریف میں چودہ بال سفید تھے ظاہر ہے کہ اتنے بال ضرور گنے جاسکتے ہیں۔
۶
؎نبذکے معنی ہیں تھوڑے سے بال وہ بھی الگ الگ،کل بیس بال شریف سفید ہوئے تھے چودہ تو سر شریف میں،پانچ داڑھی مبارک میں،ایک ریش بچی میں۔یہ ہے صحابہ کا عشق رسول کہ حلیہ شریف ہو بہو بیان کردیا۔خدا کرے یہ حلیہ شریف قبر میں یاد رہے کہ اس پر وہاں کی کامیابی موصوف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5786